Category: پاکستان

پاکستان کا مستقبل

  • ٭٭سیاسی نظام٭٭

    ٭۔ سیاسی نظام کی اساس اسلام فلسفہ خدمت ہو گی۔

    ٭۔ اسلامی اصولِ شوری   کی بنیاد پر ” مجلس خادمینِ پاکستان” کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

    ٭۔ ملک میں متناسب نما ئندگی کی بنیاد پر الیکشن ہوا کریں گے۔

    ٭۔الیکشن پاک آئی ڈی کے تحت ہوا کریں گے۔جس میں اخراجات انتہائی کم اور نتائج مکمل طور پر شفاف ہوں گے۔

    ٭۔الیکشن میں کسی قسم کی دخل اندازی   کرنے یا کرنے کی کو شش کرنے کی سزا موت ہو گی۔

    ٭۔ ہر سیا سی جماعت کے لئے لازم ہو گا کہ وہ اپنا تمام ڈیٹا کمپیو ٹرائزڈ کریں۔اور وہ تمام معلو مات   مرکزی الیکشن آفس جمع کروائیں۔

    ٭۔ہر سیا سی جماعت  کے کم از کم ایک سو کارکنان کا مختلف شعبوں میں بین القوامی سطح کی اعلی تعلیم اورمہارت  کا حامل ہونا ضروری ہو گا۔

    ٭۔مذکورہ بالا سو اعلی مہارت کے حامل کارکنوں کی لسٹ ہر سیا سی جماعت کو الیکشن آفس جمع کروانے کے ساتھ ساتھ میڈیا کو بھی فراہم کرنی ہو گی تاکہ ہر پاکستانی ان کی جانچ پڑتال کر سکے۔

    ٭۔ کسی بھی سیا سی جما عت کو اپنا جھنڈا بنانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اسکی بجا ئے ہر سیا سی جماعت اپنا مخصوص نشان رکھ سکیں گی۔

    ٭۔گروہی، لسانی، خاندانی، مذہبی و ہمہ قسم عصبیت پر مبنی سیاست پر انتہائی سختی سے پابندی ہو گی۔اور مرتکب افراد کی سزا موت ہو گی۔

    ٭۔ سیاست۔اسلام، پاکستان، پاکستانی قوم کی خدمت فلاح کادوسرا  نام ہو گا۔

    ٭۔  حضرتِ اقبال کے فرمان  کو مکمل عملی طور پر نافذ کیا جائے گا۔

    جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

    ٭۔ یہی چنگیزی جس کی سزا ہم 78 سال سے بھگت رہے ہیں۔

    ٭۔پاکستان مجلسِ خادمین پاکستان کا سب سے بالا قانون ساز ادارہ ہو گا۔جس کا کام قانون سازی اور امورِ مملکت کی نگرانی ہو گا۔

    ٭۔امیرِ مجلس خادمین اور نائب امیرِ مجلس خادمین کا تقرر بھی کیا جائے گا۔ ان کا کام پاکستان مجلسِ خادمین کے اجلاسوں کی منعقدگی اور کنٹرول کرنا ہو گا۔

    ٭۔ پاکستان مجلسِ خادمین کے لئے ” حلف نامہ” مرتب کیا جائے گا۔ جو انتہا ئی جامع اور سخت ہو گا۔

    ٭۔پاکستان مجلسِ خادمین کے ممبران کی تنخواہ عام پاکستانی کی اوسط تنخواہ کے برابر ہو گی۔

    ٭۔ فی الوقت  پندرہ سال تک ہمہ قسم کی سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہو گی۔

    ٭۔الیکشن سے چار ماہ قبل ہر سیاسی جماعت کامیابی کی صورت میں اپنے ممکنہ دو سو ممبران کی فہرست مرکزی الیکشن آفس جمع کروائے گی۔ تاکہ انکے کردار اور مہارت کی مکمل چھان بین کی جا سکے۔

    ٭۔ یہ فہرست میڈیا کو بھی فراہم کی جائے گی۔

    ٭۔اس فہرست کے ساتھ ہر سیاسی جماعت اپنے ممکنہ “امینِ پاکستان” اور نائب امینِ پاکستان کا نام بھی مرکزی الیکشن آفس جمع کروا ئیں گی۔

    ٭۔ مذکورہ دونوں امیدوار تمام قومی مباحثوں میں اپنا جماعتی منشور اور ملکی ترقی کے لئے اپنی حکمتِ عملی بیان کریں گے۔

    ٭۔ابھی آبادی کے متعلق حتمی اعدادو شمار موجود نہیں۔ حتمی اعدادو شمار مرتب کرنے کے بعد مجلس خادمینِ پاکستان کے ممبران کی تعداد کا تعین کیا جائے گا۔

    ٭۔ متناسب نمائندگی کے نظام سے موجودہ فرسودہ نظام کا خاتمہ ہو گا جس میں صرف دولت مند ہی الیکشن لڑ سکتے ہیں۔اوریہی 78 سال سے پاکستان اور پاکستانی قوم کو سفاکی سے لوٹ لوٹ کر ہمیں ذلت و رسوائی کی دلدل میں دھکیل چکے ہیں۔

    ٭۔ الیکشن میں حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے سیا سی جماعت کو مجلس خادمین میں ممبران کی نمائندگی دی جائے گی۔ اس صورت میں ایک عام ورکر بھی مجلس خادمین کا ممبر ہو گا۔

    ٭۔موجودہ اسمبلیوں کی عمارتوں کومشاورت کے بعد تعلیمی یا دیگر امور کے لئے زیرِ استعمال لایا جائے گا۔

    ٭۔اس وقت وطنِ عزیز انتہائی خطرناک صورتِ حال سے دو چار ہے۔ہمیں پہلے اپنے گھر پاکستان کو ان حالات سے نکالنا ہے۔ ایک ہی دھڑکن ہر پاکستانی کی۔۔۔۔۔پاکستان۔۔۔پاکستان۔۔۔پاکستان۔

     

     

     

  • ٭ دفاع و خارجہ٭

    ٭۔مسلح افواج کو جدید ترین  اسلحہ اور ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا۔

    ٭۔ایک لاکھ ایس ایس جی کمانڈوز پر مشتمل ” قدیر رجمنٹ” کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

    ٭۔  پاکستان میں اپنے خصوصی فرائض کے ساتھ ساتھ خدانخواستہ کسی ہنگامی صورت حال میں ” قدیر رجمنٹ” حرمین شریفین کے تقدس کے دفاع کی ذمہ داربھی ہو گی۔

    ٭۔محسنِ پاکستان حضرت ڈاکٹر عبدالقدیرؒ  کے نام پر قدیر رجمنٹ قائم کی جائے گی۔

    ٭۔ محسنِ پاکستانؒ کو انشااللہ وہ عزت و تکریم دی جائے گی جس کے وہ مستحق ہیں جو انشااللہ بے مثال ہو گی۔ہم من الحیث القوم   بے حدشرمندہ ہیں ۔ اس سلسلے میں مکمل تفصیلات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    ٭۔ وطنِ عزیز کے ایک ایک انچ پر مکمل حکومتی رٹ ہر صورت قائم کی جائے گی۔

    ٭۔ افواج پاکستان  کا کردار احکامِ قائدِاعظمؒ  کے تحت صرف اور صرف پاکستان کے دفاع تک محدود ہو گا۔

    ٭۔ ہمہ قسم کے سول کاموں سے بھی فورسز کو علحدہ رکھا جائے گا۔ تاکہ وہ اپنا فوکس دفاعِ وطنِ عزیز پر رکھیں۔

    ٭تمام سروسز چیف بشمول آرمی چیف کی میڈیا کوریج انتہائی محدود ہو گی۔جس کی ہدایات امینِ میڈ یا کی طرف سے بعد میں تفصیل سے جاری کی جائیں گی۔

    ٭۔ افواج پاکستان کی سپریم کمان امینِ پاکستان کے پاس ہو گی۔

    ٭۔تمام سول اداروں کی طرح مسلح افواج میں بھی انتظامی اخراجات کو کم سے کم کیا جائے گا۔

    ٭۔ ریٹا ئر اہلکاروں کو دوبارہ کسی سرکاری عہدے پر تعینات نہیں کیا جائے گا۔

    ٭۔ کسی بھی قسم کی بد عنوانی یا ڈسپلن کی خلاف ورزی کی سزا موت ہو گی۔

    ٭۔تمام چھاونیوں کو بتدریج شہروں سے باہر شفٹ کر دیا جائے گا۔

    ٭۔  میجر سےلے کرجنرل تک کے عہدوں کی بعد از ریٹائرمنٹ عملی سیاست یا کسی قسم کے میڈیا میں ڈائریکٹ یا اِن ڈائریکٹ حصہ لینے پر  تا حیات پابندی ہو گی۔  تاہم وہ اپنا حقِ رائے دہی باقی پاکستانیوں کی طرح قانون کے مطابق ا ستعمال کر سکیں گے۔

    ٭۔ مسلح افواج کے انتظامی ڈھانچے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہو گی۔ تمام انتظامی امور  معمول کے مطابق  چلیں گے۔

    ٭۔ تمام  فائنل اسٹریٹیجک فیصلے تمام متعلقہ فیڈبیک اور مشاورت کے بعد امینِ پاکستان کریں گے۔ اور ان پرمکمل من و عن عمل کیا جائے گا۔

    ٭۔اسلام امن کا داعی ہے اور پاکستان ہر ممکن حد تک اس پر عمل کرتا رہا ہے اورانشااللہ کرتا رہے گا۔ لیکن اگر کسی بھی ملک نے ہماری سرزمین میں کسی بھی قسم کا شر پھیلانے کی کسی قسم کی کوئی بھی کوشش کی تو اسکو اس کے عبرتناک نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    حضرتِ اقبالؒ فرماتے ہیں۔

      ہو حلقہِ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

    رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

    ٭۔کشمیر کے حوالے سے باباؒ نے جو فرما دیا وہی کافی ہے۔ ہم اس پر عمل کے پابند ہیں ۔

    ٭۔پاکستان کسی بھی ملک میں مداخلت نہیں کرئے گا اور نہ ہی کسی ملک کو پاکستان میں مداخلت کرنے دے گا۔جس نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو وہ ملک نتائج کا خود ذمہ دار ہو گا۔

    ٭۔   بیرونِ ملک  پاکستانی سفارت خانوں میں  موجودہ افسر شاہی کا کلچر مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

    ٭۔ہر پاکستانی سفارت خانے میں “پیمانہ خدمت ” نصب کیا جائے گا۔

    ٭۔تمام ممالک میں پاکستانی  سفارت خانے ہر پاکستانی کےلئے چوبیس گھنٹے کھلے رہیں گے۔

    ٭۔اسلام آباد میں امینِ خارجہ کی زیر نگرانی  بیرونِ ملک پاکستانیوں کی چوبیس گھنٹے مدد کے لئے   ہیلپ ڈیسک قائم کیا جائے گا۔ جو جدید ترین فیڈ بیک ٹیکنالوجی کا حامل ہو گا۔

    ٭۔ تمام بیرونِ ملک پاکستانیوں کو مکمل  تحفظ اور سپورٹ دی جائے گی کہ وہ مکمل یکسوئی سے اپنے وطنِ عزیز کے لئے کام کر سکیں۔

    ٭۔تمام بیرون ملک پاکستانیوں کو رائج سیاسی نظام کے تحت ووٹ کا حق حاصل ہو گا۔

    ٭۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی جو اس ملک میں اثر و رسوخ رکھتے ہوں انہیں وطنِ عزیز کی خدمت کے حوالے سے اسپیشل ذمہ داریاں دی جائیں گی۔

    ٭۔اسلامی اقدار کی روشنی میں پاکستان میں تمام اقلیتوں بشمول ہندوؤں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ پاکستان یہ توقع رکھتا ہے کہ بھارت بھی اس سلسلے میں بھارت میں مقیم مسلمانوں کے  تحفظ اور انکی مذہبی آزادی کو  یقینی بنائے گا۔ بصورتِ دیگر پاکستان اس سلسلے میں ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔

    ٭۔افغان مہاجر ہمارے بھائی ہیں اور تاریخ شاہد ہے کہ افغانیوں اور افغانستان کے لئے پاکستان اور پاکستانیوں نے   بے مثال قربانیاں دی ہیں۔افغان مہاجرین کے مسئلے کو مستقل بنیاد پر حل کیا جائے گا۔

    ٭۔ سبز پاسپورٹ کی بے وقعتی کی وجوہات کا تدارک کرتے ہوئے انشااللہ پاکستانی پاسپورٹ کی ریٹنگ کو ٹاپ پر لانے کے لئے مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کیا جائے گا۔