Category: پاکستان

پاکستان کا مستقبل

  • ٭حلف نامہ٭

    ٭۔ہر سرکاری اہلکار کو بوقتِ ملازمت قرآنِ پا ک پر ہاتھ رکھ کر  باآوازِ بلند یہ حلف دینا ہو گا ۔اسکی ریکارڈنگ مذکورہ اہلکار کے ریکارڈ میں محفوظ کر دی جائے گی۔اور تحریری شکل میں بھی محفوظ کرلی جائے گی۔

     ٭۔ سرکاری دفاتر میں قبر کی تصاویر آویزاں کی جائیں گی کہ اپنا اصل مقام یاد رہے اور کوئی بھی بد دیانتی رشوت ستانی یا اقربا پروری کا تصور تک نہ کر سکے۔

    ٭۔یاد رہے کہ ہر سرکاری دفتر میں کیمرے بھی نصب ہوں گے اور انتہا ئی سخت آن لائن نگرانی بھی رکھی جائے گی۔

    ٭۔جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا کہ “پیمانہ خدمت” بھی نصب کیے جائیں گے تا کہ سرکاری اہلکاروں کو مکمل طور پر پاکستانیوں کی خدمت کا پا بند بنا یا جا سکے۔

    ٭۔حلف نامہ کی ریکارڈنگ اور تحریری شکل کی ایک کاپی سرکاری اہلکار کی فیملی کو بھی دی جائے گی۔

    ٭٭٭حلف نامہ٭٭٭

    میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآنِ پاک پہ ہاتھ رکھ کر  اللہ پاک کی بارگاہ اور سرکار ﷺ کے حضورصدقِ  دل سے یقین کے ساتھ قسم اٹھاتا ہوں اور زبان سے  اقرار کرتا ہوں/کرتی ہوں کہ  میں ہر حال میں پاکستان کا وفادار رہوں گااور اپنے فرائض پوری ایمانداری ، دیانتداری سے ادا کروں گا۔اور میرے فرائض سے متعلق اپنے پاس آنے والے ہر پاکستانی کی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مکمل خلوص اور خوش اخلاقی سے داد رسی کروں گا۔

    اور یہ کہ پاکستان کے مفاد اور اپنے  فرائضِ منصبی کو ذاتی ،خاندانی مفاد و ہمہ قسم دیگر دائریکٹ اور اِن دائریکٹ مفادات پر ہر صورت مقدم رکھوں گا- میں مر جاوں گا لیکن پاکستان کے مفاد پر آنچ نہیں آنے دوں گا میرا جینا مرنا پاکستان تھا، ہے اور رہے گا- میں صدقِ دل سے تسلیم کرتا ہوں اور زبان سے اقرار کرتا ہوں کہ یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہےاور مجھے آج نہیں تو کل قبر میں اتر جانا ہے ۔ میں بد دیانتی، رشوت ستانی ،اقربا پروری  کی لعنت سے خود کو ہر حال میں دور رکھوں گا اور اپنے فرائضِ منصبی صدقِ دل سے پوری ایمانداری دیانتداری سے بطور راعی ادا کروں گا۔

    اللہ پاک سرکار ﷺ کے صدقے اس عہد میں مجھے استقامت عطا فرمائیں آمین۔

    اگر میں اپنے حلف کی دانستہ یا نا دانستہ عہد شکنی کروں تونہ صرف  مجھےدنیاوی طورپر قرار واقعی سزا دی جائے جو کہ سرِ عام موت ہے۔ بلکہ میں صدقِ دل سے  قسم اٹھاتا ہوں اور زبان سے اقرار کرتا ہوں کہ میں  ایسی صورت میں مسلمان کہلانے کا حقدار نہ ر ہوں گا اور رحمتِ خداوندی اور شفاعتِ سرکار ﷺ سے محرومی  میرا مقدر ہو۔اور جہنم میرا مستقل ٹھکانہ ہو۔

    میرےوالدین اہل و عیال احباب اور اہلِ خانہ بشمول میری بیوی بچے  اگر میری ایسی عہد شکنی کی وجہ سے میری حرام کی کمائی کھائیں تو وہ بھی اس جرم میں برابر کے شریک تصورہوں۔ وہ بھی مسلمان نہ رہیں اور وہ بھی رحمتِ خداوندی اور شفاعتِ سرکار ﷺ سے محروم رہیں۔اور جہنم انکا مستقل ٹھکانہ ہو

  • ٭٭معاشی نظام٭٭

    ٭۔سودی نظام کو بتدریج مکمل طورپر ختم کر دیا جائے گا ۔

    ٭۔پاکستان کو اس وقت بڑے تجارتی خسارے کا سامنا ہے اور ہمارے زرِمبا دلہ کے ذخائر مستحکم نہیں ہیں۔اس کے حل کے لئے ہنگامی، شارٹ ٹرم،میڈیم ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبہ بندی کے تحت کام کیا جائے گا۔ اور انشاااللہ یہ مسئلہ مکمل طور پر حل کیا جائے گا۔

    ٭۔ ملکی معیشت کی بنیاد زراعت پر رکھی جائے گی۔

    ٭۔ زراعت کے فروغ اور ترقی کے لیے ہنگامی طور پر کام کیا جائے گا۔

    ٭۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی اور جدید زرعی اجناس کے بیج جو زیادہ پیداوار دیتے ہیں وہ کسانوں کو فراہم کیے جائیں گے۔

    ٭۔زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور دیگر ادارے جہاں زرعی تحقیق کا کام ہوتا تھا انہیں دوبارہ فعال بنایا جائے گا۔

    ٭۔فوری ہر ممکن اقدام کیے جائیں گے کہ اجناس کی اوسط پیداوار میں جلد از جلد اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

    ٭۔ کسانوں کی بہتری کےلئے ہر کام کیا جائے گا۔ ایسا نطام وضع کیا جائے گا کہ کسان کو اپنی محنت کا زیادہ سے زیادہ منافع ملے۔ نا کہ مل مالکان یا آڑھتی کسان کا حق کھاتے رہیں۔

    ٭۔ زراعت سے وابستہ صنعتوں کی تنصیب کے لئے خصوصی مراعات دی جائیں گی۔

    ٭۔زراعت سے وابستہ چھوٹی صنعتوں کے قیام کے لئے کسانوں کے بچوں کو حکومت کی طرف سے قرض سمیت تمام سہولیات دی جائیں گی۔

    ٭۔ ملک گیر زرعی اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔

    ٭۔زرعی اصلاحات کا مطلب بہت وسیع ہے فی الحال اسکی اتنی ہی تشریح کافی ہے۔

    ٭۔ آبی وسائل کو مکمل طور پر استعمال کیا جائے گا۔اور مکمل کوشش ہو گی کہ آبی وسائل کا ضیاع نہ ہو۔

    ٭۔تمام آبی وسائل کو بروئے کار لانے کے لئے ہنگامی اقدامات کیے جائیں گے۔اور بھارتی آبی جارحیت کا موثئر سدباب کیا جائے گا۔

    ٭۔ جدید آب پاشی سے کسانوں کو روشناس کروایا جائے گا تا کہ آبی وسائل کو مکمل طور پر استعمال کیا جا سکے۔

    ٭۔شہری و دیہی استعمال شدہ پانی کو فلٹریشن کے بعد زراعت کے لئے دوبارہ استعمال کیا جائے گا۔

    ٭۔انشااللہ تمام غیر آباد زمین کو قابلِ کاشت بنایا جائے گا۔

    ٭۔آباد زمین کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لئے ہر ممکن اقدام کیےجائیں گے۔

    ٭۔ اللہ پاک نے وطنِ عزیز کو تمام نعمتوں سے نوازا ہے۔ پاکستان میں وہ علاقے جہاں سورج مکھی یا دیگر خوردنی تیل پیدا کرنے والی فصلوں کی کاشت ممکن ہے وہاں کاشتکاروں کو اس حوالے سے خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ تاکہ خوردنی تیل کی درآمد سے چھٹکارہ حاصل کیا جا سکے۔

    ٭۔اس سلسلے میں روزنامہ دنیا کے کالم نگار جناب اظہار الحق صاحب نے چکوال کے کسی کسان کا حوالہ دیا ہے جس نے کامیابی کے ساتھ زیتون کی ایک بڑے رقبے پر کاشت کی ہے۔اس طرح کے پاکستانی کاشتکاروں کو ہر ممکن سرکاری تعاون اور وسائل دئیے جائیں گے کہ خوردنی تیل کے حوالے سے پاکستان جلد از جلد خود کفیل ہو سکے۔

    ٭۔ دیہاتوں میں بائیو گیس پلانٹس کی تنصیب کی جائے گی۔ کسانوں کو مکمل سپورٹ کیا جائے گا تاکہ وہ ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

    ٭۔ مذکورہ اصلاحات کے تحت سرکاری زمینیں اسلامی معاشی بنیادوں پربے روزگار نوجوان پاکستانیوں کو مفت دی جائیں گی۔

    ٭۔ زرعی زمینوں پر رہائشی کالو نیا ں بنانے پر مکمل پابندی ہو گی۔ ماضی میں جن لوگوں نے یہ کام کیا ہے انکا بھرپور محاسبہ کیا جائے گا۔

    ٭۔ نئے شہر اور رہائشی علاقے وہاں  بنیں گےجو زمینیں نا قابلِ کاشت ہوں گی۔

    ٭۔تمام کاشتکاروں کو بلاسود قرض لینے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

    ٭۔ موجودہ پٹواری نظام کی جگہ نیا نظام وضع کیا جائے گا۔ جس میں تمام زمینوں کا ریکارڈ کمپیو ٹرائزڈ ہوگا۔ہر پاکستانی کو اسکی سہولت ہو گی کہ وہ مطلوبہ ریکارڈ  اپنے موبائل سےدیکھ سکے گا۔

    ٭۔ فرد جمع بندی کے موجودہ کرپٹ نظام کی جگہ صاف شفاف نظام وضع کیا جائے گا۔زمین کی خریدو فروخت کو بھی سادہ اور کرپشن سے پاک کیا جائے گا۔

    ٭۔ نچلی سطح تک زرعی ماہرین تعینات کیے جائیں گے جو بلا امتیاز کسانوں کو رہنمائی فراہم کریں گے۔

    ٭۔زرعی زمینیں شراکت کی بنیاد پر نوجوان بےروزگار پاکستانیوں کو دی جا ٰئیں گی۔یعنی ان پر کاشت کاری کے لئے خرچ حکومت فراہم کرے گی اور محنت مذکورہ کاشت کار کرے گا۔کاشت کار ایک خاص مدت کے بعد یہ زمین خرید یا فروخت کر سکے گا۔تفصیلات کا اعلان بعد میں کیا جا ئے گا۔

      ٭۔ زرعی فصلوں کے حصص کی تجارت کا بھی ایک مربوط نظام وضع کیا جائے گا۔تفصیلات کا اعلان بعد میں کیا جا ئے گا۔

    ٭۔ زرعی علاقے کو انتظامی بنیادوں پر مختلف حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔اور  ان حصوں میں پاکستان زرعی مرکز قائم کیے جائیں  گے۔ جہان اعلی تربیت یافتہ زرعی عملہ تعینات کیا جائے گا۔ ان زرعی مراکز کا کام اس علاقے کے زرعی مسائل کو حل کرنا ہو گا۔ان  مراکز میں جدید زرعی آلات بھی دستیاب ہوں گے جو کسانوں کو استعمال کے لئے مفت فراہم کئے جائیں گے۔

    ٭۔مذکورہ پاکستان زرعی مراکز ایک شعبہ حیوانات قائم کیا جائے گا۔جس کا کام مذکورہ علاقے  میں ڈیری اور فشنگ کی ترقی کے لئے کام کرنا ہوگا۔ان مراکز میں جانوروں کے علاج کی تمام سہولتیں میسر ہوں گی۔اس کے علاوہ جانوروں کی موبائل ڈسپنسریوں کا بھی قیام عمل میں لایا جا ئے گا۔

    ٭ ۔مختصرا ان پاکستان زرعی مراکز کا کام ملک میں اجناس اور دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے کے لئے اقدامات کرنا ہوگا۔

    ٭۔مذکورہ پاکستان زرعی مراکز تمام جدید آلات سے مزین ہوں گے جن میں لیبارٹریاں بھی قائم ہوں گی جہاں پودوں اور مٹی کا تجزیہ کیا جا سکے گا۔

    ٭۔جنگلات کی ترقی کے لئے بھی ان زرعی مراکز میں شعبہ قائم کیا جائے گا۔جہاں پودے تمام پاکستانیوں کو مفت فراہم کئے جائیں گے۔قومی سطح پر جنگلات کی اہمیت کے لئے مہم چلائی جائے گی۔

    ٭۔مذکورہ  پاکستان زرعی مراکز کی حدود کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔

    ٭۔ہر مذکورہ مرکز اپنی روزانہ کی کارکردگی ریجنل دفتر کو اور ریجنل دفتر مرکزی دفتر کو بھجیں گے۔یاد رہے کہ باقی تمام حکومتی اداروں کی طرح یہ دفاتر بھی نیٹ ورکنگ کے ذریعے آپس میں منسلک ہوں گے۔اور ان کی مکمل نگرانی کی جائے گی۔

    ٭۔زراعت کے جدید آلات کم ترین قیمت پر کسانوں کو فراہم کئے جائیں گے۔

    ٭۔زراعت سے منسلک شعبہ جات  ڈیری مرغبانی فشنگ  کے لئے بھی ہر طرح سے کسانوں اور اس شعبہ سے وابستہ افراد کو مکمل سہولت اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

    ٭ ۔ہر زرعی مرکز اپنی حدود میں کاشت کی جانے والی فصلوں کا اور متوقع پیداوار کا مکمل ڈیٹا سسٹم میں انٹر کرے گا۔اور متوقع اور حاصل شدہ پیداوار کو متواتر اپ ڈیٹ کرے گا۔

    ٭۔ مرکزی سوفٹ وئیر میں ہر زرعی مرکز کا ڈیٹا اکٹھاکرکے مجموعی ڈیٹا مرتب کیا جائے گا۔اور اسی حساب سے ملکی ضروریات کو پورا کرنے اور اجناس کی عالمی مارکیٹ میں خرید و فروخت کو اس طرح مربوط کیا جائے گا کہ ہر ممکن کسانوں کو اس کا فائدہ پہنچایا جا سکے۔

    ٭۔ زراعت سے منسلک انڈسٹری کی ترویج کے لئے خصوصی اقدام کیے جایئں گے۔

    ٭۔ ہر سال نمایاں اوسط پیداوار حاصل کرنے والے کسانوں  انعا مات دئیے جایئں گے تاکہ بحیثیت مجموعی زرعی پیداوار بڑھانے کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

    ٭۔ تھر اور چولستان کے علاقے میں پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ اور انہیں بہترین چراگاہیں بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ان علاقوں میں مویشیوں کی پیداوار کو  بڑھایا جا سکے۔

    ٭۔ زرعی بیٹھک کا فورم متعارف کروایا جائے گا جس سے تمام ملک کے کاشت کار آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اپنی آرا شیئر کر سکیں گے۔مزید تفصیلات پاک آئی ڈی میں فراہم کی جائیں گی۔

    ٭۔موجودہ معاشی عدم مساوات کا  مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

    ٭۔ برآمدات بڑھانے کےلیے ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کیا جائے گا۔اور اس سلسلے میں بیرون ملک پاکستانیوں کو بھی اپنے ملک کی خدمت کا موقع دیا جائے گا۔

    ٭۔ برآمد کندگان کو ہر ممکن سہولیات دی جائیں گی اور برآمد کے لیے سامان کے معیار کو ہر ممکن برقرار رکھا جائے گا۔

    ٭۔ فی الوقت پاکستان سرجیکل سپو رٹس اور ٹیکسٹائل کی برآمدات میں نمایاں ہے۔ ان کی برآمدات کے لئے مزید ممالک سے ہنگامی طور پر رابطے کیے جائیں گے۔

    ٭۔اور جو ممالک ہماری سرجیکل سپورٹس اور ٹیکسٹا ئل کی مصنوعات لے رہے ہیں انہیں دیگر مصنوعات کے لئے بھی آمادہ کیا جائے گا۔جیسے دستکاری فرنیچرادویات اور جو مصنوعات بھی ممکن ہو سکیں۔

    ٭۔اس وقت وطنِ عزیز کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ ایک بہت بڑا سورس ہے اسکو مربوط طریقے سے استعمال میں لا کر ان کی صلاحیتوں کو پاکستان کی ترقی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

    ٭۔سرجیکل اسپورٹس کے وہ کاریگر جو اپنے یونٹ لگانا چاہتے ہوں گے انہیں بلا سود قرض فراہم کیے جائیں گے۔

    ٭۔اسٹاک ایکسچینج کو عام پاکستانیوں تک پہنچایا جائے گا۔

    ٭۔ وہ ڈیمز جن کی تکمیل جلد از جلد ممکن ہے ان پر فوری کام شروع کیا جائے گا۔ اور اس کے لئے فنڈذ کا بھی ایک مربوط پلان ہے۔ مزید تفصیلات کا ذکر نظامِ توانائی میں کیا جائے گا۔

    ٭۔ زراعت اور برآمد کند گان کوبجلی کی سستی اور مستقل فراہمی یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدام کیے جائیں گے۔

    ٭۔خواتین کو بھی ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کا پورا موقعہ دیا جائے گا۔ دستکاری سنٹرز کے لئے قرض حکومت فراہم کرئے گی۔اور بین القوامی سطح پر دستکاری کی نمائشوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

    ٭۔اسی طرح جو خواتین ڈیری، مرغبانی سے وابستہ ہوں گی انہیں بھی مکمل سپورٹ کیا جائے گا۔

    ٭۔گھریلو سطح پر سبزیوں کی کاشت کی مکمل حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

    ٭حضرتِ اقبالؒ فرماتے ہیں۔

    دلیلِ صبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی

    افق سے آفتاب ابھرا ، گیا دورِ گراں خوابی

    ٭۔انشااللہ بہت جلد پاکستان معا شی طور پر مستحکم ہو گا۔

     

  • ٭٭نظامِ توانائی٭٭

    ٭۔بجلی اورگیس  کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے ٹھوس عملی  دیرپا اقدامات کئے جایئں گے۔

    ٭اس مسئلہ کے حل کے لئے بھی مربوط طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ جو کہ شارٹ ٹرم میڈیم اور لانگ ٹرم بنیادوں پر مبنی ہو گا۔

    ٭۔آئی پی پی کا موجودہ نظام بتدریج تبدیل کر دیا جائے گا۔

    ٭۔ایٹمی بجلی گھروں کے قیام کے لئے چین کے اشتراک سے فوری منصوبے لگائے جائیں گے۔

    ٭۔پن بجلی کے اللہ پاک نے ہمیں بہت مواقع دئیے ہیں۔انکو انشااللہ پورے طریقے سے استعمال کیا جائے گا۔

    ٭۔ دریائے جہلم سوات کابل اور مختلف دریاؤں  ندی نالوں نہروں پر جہاں پانی کا بہاو بہت تیز ہے وہاں چھوٹے بڑے بجلی گھر ہنگامی بنیادوں پر قائم کیے جائیں گے۔

    ٭مذکورہ بجلی گھروں میں شراکت کی بنیاد پر ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کروائی جائے گی۔

    ٭بڑے ڈیمز جن کی تکمیل جلد از جلد ممکن ہے ان کی تعمیر فوری شروع کرنے کے لئے ہنگامی اقدام کیے جائیں گے۔

    ٭۔ہر ممکن کوشش کی جائے گی کہ صنعتوں اور  زراعت کو سستی بجلی فراہم کی جائے۔تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں یہ شعبے اپنا بھرپور فعال کردار ادا کر سکیں۔

    ٭۔شہری کوڑاکرکٹ کو تھرمل بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

    ٭۔جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا کہ شہری و دیہی استعمال شدہ پانی کو فلٹریشن کے بعد دوبارہ استعمال کیا جائے گا۔

    ٭ ۔یہی پانی تھرمل بجلی کی پیداوار میں استعمال کیا جائے گا۔

    ٭ ۔اور بقیہ پانی زرعی استعمال میں لایا جائے گا۔

    ٭ ۔استعمال شدہ پانی کی فلٹریشن سے جو مٹی حاصل ہو گی اسے بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

    ٭ ۔اس سے نہ صرف سستی توانائی حاصل ہو گی بلکہ شہروں و دیہات میں کچرے کا جو مسئلہ ہے وہ بھی حل کیا جا سکے گا۔

    ٭۔ نجی شعبے کو ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کےلئے خصوصی ترغیبات دی جائیں گی۔

    ٭ مذکورہ منصوبوں کے حصص اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے ہر پاکستانی خرید سکے گا۔

    ٭۔سرکلر ڈیبٹ کا مسئلہ جو کہ کرپشن کا شاخسانہ ہے اسکا فوری تدارک کیا جائے گا۔

    ٭جن محکموں اورموجودہ صوبوں کی عدم ادائیگیؤں کی وجہ سے سرکلر ڈیبٹ کا مسئلہ کھڑا ہوا ان کے اکاونٹ سے مذکورہ واجب الادا رقم کاٹ لی جائے گی۔اور معا ملات کو سلجھایا جائے گا۔

    ٭۔ بیواؤں اور یتیموں کےبنیادی ضرورت کی بجلی کے استعمال کے بل  حکومت ادا کرے گی۔اور ایسی طلاق یافتہ خواتین جن کا کوئی ذریعہ آمدن نہ ہو گا۔

    ٭ سابق چئیرمین واپڈا شمس الملک اور ان جیسے دیگر مخلص اور پرو فیشنل پاکستانیوں کو اس کام میں اپنی خدمات پاکستان کو فراہم کرنے کا پورا موقعہ دیا جائے گا۔

    ٭بجلی  و گیس چوری کے مسئلے کو انتہائی سختی سے حل کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ چوری بنا محکمانہ اہلکار کے ملوث ہوئے ممکن نہیں اس لئے سابقہ لائن مینوں کی بھی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

    ٭۔ بجلی و گیس چوری کا انتہائی سختی سے قلع قمع کیا جائے گا۔ بجلی و گیس چوری میں ملوث سرکاری اہلکار کی سزا موت ہو گی۔

    ٭۔ بجلی و گیس چور کو بھاری جرمانے کے ساتھ اسکا ناک کاٹ دیا جائے گا کہ وہ معاشرے کے لیے نشانِ عبرت بنے۔

    ٭۔ لائن لاسز کے نام پر موجودہ کرپشن کو فی الفور ختم کیا جائے گا۔

    ٭۔ جس تقسیم کار کمپنی کو جتنی بجلی و گیس دی جائے گی اس سے اسکا پورا معاوضہ وصول کیا جائے گا۔ بصورت دیگر اس کمپنی کے بڑے اہلکاروں کی تنخواہیں ادا نہیں کی جائیں گی۔اور انتہا ئی سخت سزائیں بھی دی جائیں گی۔

    ٭۔ دیہات میں بائیو گیس پلانٹ لگائے جائیں گے۔ تا کہ کسانوں کی فیملیز کو  سہولت فراہم کی جا سکے۔

    ٭۔ نجی شعبہ اگر اس کام میں سرمایہ کاری کرئے تو اسے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔

    ٭۔ برآمد کنندگان کو سستی بجلی اور گیس کی ہمہ وقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    ٭۔ کچلاک اور دیگر ایسے مقامات جہاں تیل و گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں وہاں فوری طور پر کام کا آغاز کروایا جائے گا۔

    ٭۔انشااللہ   اللہ پاک کے عطا کردہ وسائل کو استعمال کر کے وطنِ عزیز کو  جلد از جلد درآمدی ایندھن سے نجات دلوائی جائے گی۔

    ٭۔تھر میں موجود کوئلے کو ایندھن میں تبدیل کرنے کے لئے ہنگامی طور پر جنوبی افریقہ سے ٹیکنالوجی لے کر اسے بروئے کار لایا جائے گا۔

    ٭۔ فی الوقت بجلی کےبے جا استعمال کو کم کرنے کے لئے  انتہائی سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

    ٭ ٹھٹہ بدین  یا وہ علاقے جہاں ہوا سے بجلی بن سکتی ہے وہاں ایسے پلانٹ لگائے جائیں گے۔

    ٭۔کوئی بھی پاکستانی اپنے “گھر پاکستان” کے لئے باقی شعبوں کی طرح اگر اس شعبے میں کوئی بھی قابلِ عمل پلان یا پروجیکٹ پیش کرئےگا تو حکومت اسکو مکمل سپورٹ کرئے گی۔

    ٭۔بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانی جو اس حوالے سے وطنِ عزیز کے لئے اپنی خدمات دینا چاہیں انہیں مکمل سپورٹ کیا جائے گا۔

     

    ٭۔ حضرتِ اقبالؒ فرماتے ہیں۔

    تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

  • ٭٭نظامِ عدل٭٭

    ٭۔موجودہ عدالتی نطام کو بتدریج نئے اسلامی نظامِ عدل سے تبدیل کر دیا جائے گا۔

    ٭۔اسلامی احکامات کے مطابق فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

    ٭۔ باقی شعبوں کی طرح عدلیہ میں بھی کسی بھی نوعیت کی بدعنوانی کی سزا موت ہو گی۔

    ٭۔قاضی کورٹس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

    ٭۔مذکورہ کورٹس دن میں بارہ گھنٹے کام کریں گی۔

    ٭۔ہر پاکستانی بنا کسی وکیل کے قاضی کو اپنی درخواست دینے اور وہاں پیش ہو کر اپنا مسئلہ بیان کرنےکےلئے مکمل آزاد ہو گا۔

    ٭۔جھوٹے کیس کرنے کا انتہائی سختی سے تدارک کیا جائے گا۔ جھوٹا کیس ثابت ہونے پر مذکورہ شخص کا ایک کان کاٹ دیا جائے گا۔ نہ صرف اسکا کان کاٹا جائے گا بلکہ اس سلسلے میں اسکے معاونین کے بھی کان کاٹ دیئے جایئں گے۔

    ٭۔اگر کوئی فریق سمجھے کہ اسکا موقف درست تھا ۔تو اسے اپیل کا حق ہو گا۔

    ٭۔اپیل کی سماعت اسی شہرمیں تین قاضی کریں گے اور مذکورہ اپیل کنندہ کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔

    ٭۔یاد رہے کہ مذکورہ تین قاضیوں کا کام صرف اپیلیں سننااور ان کا فوری فیصلہ کرنا ہو گا۔

    ٭۔اگر کوئی فریق اپیل میں بھی جھوٹا ثابت ہو گیا تو اسکو جو سزا قاضی نے دی ہو گی اسکے ساتھ ساتھ اسکے دونوں کان کاٹ دئیے جائیں گے۔

    ٭۔”سٹے کلچر” مکمل ختم کر دیا جائے گا۔

    ٭۔ کسی ایسے تنازع میں جس میں نقصِ امن کا خطرہ ہو گا ۔ مزکورہ قاضی خود یا اپنے کسی نمائندے کو فوری جگہِ تنازع پر بھیج کر فوری فیصلہ کرے گا۔

    ٭۔جن مجرمان کو کوڑوں کی سزا ہو گی اس پر فی الفور جلادوں کے ذریعے عمل درآمد کروایا جائے گا۔اور شہر کے چوک میں کوڑے مارے جائیں گے۔

    ٭۔تمام پولیس اسٹیشن قاضی کے ماتحت اور فوری احکامات ماننے کے پابند ہوں گے۔

    ٭۔ہر ضلع کے چیف قاضی کے پاس نیٹ ورکنگ کے ذریعے تمام کیسوں کا ریکارڈ ہو گا اور جو روزانہ کی بنیاد پر کاروائی ہو گی اسکا بھی ریکارڈ ہو گا۔وہ یہ ریکارڈ متعلقہ ڈویژنل چیف قاضی کو اپنے کمنٹس کے ساتھ روزانہ فارورڈ کرے گا۔

    ٭۔اسی طرح ڈویژنل قاضی اپنے متعلقہ ڈویژن کا ریکارڈ اسلام آباد “امینِ عدل” کو جمع کروائیں گے۔اور قاضی القضا کو بھی یہ تمام ریکارڈ جائے گا۔

    ٭۔جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا کہ باقی سرکاری محکموں کی طرح عدلیہ میں بھی کسی قسم کی رشوت ستانی بد عنوانی اقربا پروری کی سزا سرِعام موت ہو گی۔

    ٭۔ موجودہ ہائیکورٹ سپریم کورٹ کلچر بتدریج ختم کر دیا جائے گا۔

    ٭ ۔فی الوقت موجودہ ہا ئیکورٹ اور سپریم کورٹ کے کام کے اوقات بڑھا دئیے جائیں گے تا کہ وہ جو زیرِ التوا کیس ہیں وہ تمام کے تمام ایک سال میں نمٹا دیئے جائیں۔

    ٭۔اس دوران کوئی نیا کیس موجودہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ میں دائر نہیں کیا جائے گا۔

    ٭۔جیسا کہ نطامِ تعلیم میں بتایا گیا ہے کہ جو بچے قاضی کی فیلڈ کے لئے سلیکٹ ہوں گے انکی ایسی تربیت کی جائے گی کہ وہ اسلامی عدل و انصاف کے زریں اصولوں کے مطابق فیصلہ دیں گے۔ اورانکا آنا انشااللہ ایک مکمل اسلامی فلاحی ریاست کے حوالے ایک بڑا سنگِ میل ہو گا۔

    ٭۔اسلام آباد میں قاضی القضا کا علیحدہ شعبہ قائم کیا جائے گاجو دس قابل ترین اور جہاندیدہ قاضی صاحبان پر مشتمل ہو گا۔ جس کا کام کسی بھی قاضی کے متعلق کسی شکایت پر فوری ایکشن لینا ہو گا۔ اور اگر کوئی بھی قاضی کسی قسم کی بد عنوانی میں ملوث پایا گیا تو اسکی سزا سرِعام پھا نسی ہو گی۔

    ٭۔ مستقبل قریب میں قاضی القضا آئین اور قانون کی تشریح اور کسی حکومتی حوالے سے بھی اپیلیں سنا کریں گے۔

    ٭۔نئے نظام کی شروعات تک موجودہ عدالتوں کا وقت بارہ گھنٹے کر دیا جائے گا تاکہ تمام زیرِالتوا مقدمات کو نمٹایا جا سکے۔

    ٭-بہت سی فرسودہ اور قومی خزانے پر بوجھ چیزوں کا فی الفور خاتمہ کر دیا جائے گا۔ جیسے کہ ملزمان کو وین میں بھر کے عدالت پیش کرنا ۔ بخشی خانہ کا نظام۔

    ٭۔ملزمان کی عدالت پیشی ویڈیو لنک کے ذریعے کی جائے گی۔

    ٭۔جھوٹا حلف نامہ دینا باقاعدہ جرم تصور ہو گا۔اور اسکی سزا ایک کان کاٹنا ہو گی۔ یہ بات فی الفور نافذ العمل ہو گی۔

    ٭۔ قاضی القضا کو موجودہ کلچر کے حساب سے سپریم کورٹ کے اختیا رات حاصل ہوں گے۔ان میں تعیناتی “پیمانہ خدمت” کی رپورٹس سے منسلک ہو گی۔

    ٭۔ نئے نظام کے نفاذ تک موجودہ عدالتی سسٹم میں نوٹس اخبار اشتہار اور چسپاندگی جیسے فرسودہ طریقہ کار کو فی الفور ختم کر دیا جائے گا۔ موبائل فون کے ذریعے فریقین کو بلایا جائے گا۔

    ٭۔ہمیں اس بات کا پورا ادراک ہے کہ بد قسمتی سے موجودہ عدالتی نظام میں کرپشن بہت عام ہے۔ ریڈر بھی پانچ دس ہزار کی دیہاڑی بنا کر جاتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ نئے نظام کے اطلاق تک موجودہ نظام سے حتی الوسع بہتری لوگوں تک پہنچائی جائے گی۔اور اس سلسلے میں انتہا ئی سختی سے کا م لیا جائے گا۔

    ٭۔حضرتِ اقبال فرماتے ہیں

    مشرق سے ہو بیزار، نہ مغرب سے حزر کر

    فظرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر

  • ٭٭نطامِ پولیس٭٭

    ٭۔ پولیس میں مکمل اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔

    ٭۔اس سلسلے میں سابق دیانتدار اور پروفیشنل پرسنز سے بھی اپنا قومی فریضہ ادا کرنے کی درخواست کی جائے گی۔کہ وہ پولیس میں اصلاحات کے لئے آگے آئیں۔

    ٭۔تھانہ انچارج تک رسائی بلا روک ٹوک ہر پاکستانی کی دسترس میں ہو گی۔

    ٭۔تھانہ انچارج ہر شکایت سننے اور موقع پر اسکی دادرسی کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا پابند ہو گا۔

    ٭۔باقی سرکاری اداروں کی طرح تھانوں اور چوکیوں میں بھی سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کی جائے گی۔اور ان کی کارکردگی کو سختی سے مانیٹر کیا جائے گا۔ یہ کیمرے آڈیو ویڈیو دونوں ریکارڈنگ کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں گے۔

    ٭۔ تھانہ انچارج اپنے تھانے کی ڈیلی کی رپورٹ  متعلقہ ضلعی انچارج کو دے گا۔۔

    ٭۔ تمام ضلعی انچارج اپنی رپورٹ ڈویژ نل انچارج کو دیں گے اس طرح اپنے ڈویژن کی فائنل رپورٹ ” امین داخلہ” کو ڈیلی اپ ڈیٹ کریں گے۔ یاد رہے کی “امینِ پاکستان” کسی بھی وقت محکمانہ کارکردگی کو آن لائن چیک کر سکے گا۔

    ٭۔یاد رہے کہ کسی بھی شکایت کے اندراج کی صورت میں اس شکایت کی ایک کاپی اسی وقت نیٹ ورکنگ کے ذریعے متعلقہ قاضی کو پہنچ جائے گی۔

    ٭۔باقی محکموں کی طرح ہر تھانے میں بھی “پیمانہِ خدمت” نصب ہو گا۔

    ٭۔تھانے میں انوسٹیگیشن کا شعبہ بالکل علیحدہ ہو گا۔ جس کا کام کسی بھی جرم کی مکمل تحقیقات کرنا ہو گا۔ اور وہ یہ تحقیقاتی رپورٹ متعلقہ قاضی کو بھجوائے گا۔

    ٭۔تمام انویسٹی گیشن پولیس اہلکاروں کو  عالمی سطح کی کرمنالوجی اور انویسٹی گیشن کی تربیت دی جائے گی۔

    ٭۔یہ قاضی کا کام ہو گا کہ وہ اس تحقیقاتی رپورٹ کے تحت کن دفعات کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہے۔

    ٭۔باقی محکموں کی طرح یہاں بھی رشوت ستانی اور بدعنوانی کی سزا موت ہو گی۔

    ٭۔خواتین کا پولیس سیکشن علیحدہ ہو گا۔اور انکی لائن آف رپورٹنگ بھی کنٹری پولیس ہیڈ تک الگ ہو گی۔

    ٭۔خواتین ملزمان کی گرفتاری خواتین اہلکاروں کے ذریعے ہی ہو گی۔

    ٭۔زنا بالجبر کی سزا انتہائی عبرتناک موت ہو گی۔اسکا مزید ذکر “جلادفورس” میں کیا جائے گا۔

    ٭۔ پولیس اہلکاروں کو دورانِ ملازمت اپنی فٹنس مطلوبہ معیار کے مطابق رکھنی ہو گی ۔

    ٭۔انشااللہ ایسا کلچر بنایا جائے گا کہ پاکستانی قوم پولیس کو اپنا محافظ سمجھے گی۔ نا کہ لٹیرا جیسا کہ موجودہ دور میں ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ٭۔نئے نطامِ پولیس کے عملی طور پر کام کرنے تک موجودہ نطام میں فوری نوعیت کی اصلاحات کی جائیں گی تاکہ پاکستانیوں کو  فوری ریلیف مل سکے۔

    ٭۔تھانہ انچارج  اپنی میز کرسی تھانے کے گیٹ کے پاس رکھے گا تاکہ کو ئی بھی شہری بنا کسی رکاوٹ کے ان سے اپنا مسئلہ بیان کر سکے۔

    ٭۔کسی بھی تھانہ میں چٹی دلالی کی کسی بھی شکایت کا ذمہ دار تھانہ انچارج ہو گا۔ اور متعلقہ انچارج چٹی دلالی میں ملوث اہلکار کی رپورٹ متعلقہ ڈی پی او کو دے گا۔ اور ملوث اہلکار کو جلاد فورس کے حوالے کر دیا جائے گا۔

    ٭۔تمام ڈی پی اوز ڈی آئی جی اور آئی جی کے دفاتر اور رہائش گاہوں سے نام نہاد سکیورٹی ہٹا دی جائے گی۔

    ٭۔تمام ڈی پی اوز ڈی آئی جی اور آئی جی اپنے دفاتر کے باہر میز کرسی رکھ کے بیٹھں گے۔ تاکہ پاکستانی ان سے اپنے مسائل بنا کسی روک ٹوک کے بیان کر سکیں۔

    ٭۔تمام تھانوں کو اپنی حدود میں منشیات جوا اور ہمہ قسم کے جرائم کو فوری ختم کرنا ہو گا بصورتِ دیگر متعلقہ انچارج اور ڈپی او پران جرائم کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔

    ٭۔انتہائی بد قسمتی کی بات ہےکہ جرائم کو در پردہ موجودہ پولیس سسٹم کی سپورٹ حاصل ہے۔ اس سلسلے کو فی الفور ختم کیا جائے گا۔

  • ٭٭نظامِ تعلیم٭٭

    ٭۔ نظامِ تعلیم میں دوسرے شعبوں کی طرح بڑے پیمانے پر اصلاحات نافذ کی جایئں گی۔

    ٭۔ مخلوط نظامِ تعلیم بتدریج ختم کر دیا جائے گا۔

    ٭۔ ملکی گیر سطح پر اُردو ذریعہ تعلیم ہو گی۔

    ٭۔پاکستانی بچوں کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

    ٭۔تمام پاکستانی بچوں کی تعلیم حکومت کے ذمے ہو گی۔

    ٭ ۔پورے ملک میں یکساں تعلیمی نصاب نافذ ہو گا۔

    ٭۔ تمام پرائیویٹ ادارے بھی وہی نصاب پڑھانے کے پابند ہوں گے۔

    ٭۔تعلیم کو کاروبار بنانے والوں کی سختی سے بیخ کنی کی جائے گی۔

    ٭ ۔کھیل کے میدان کے بغیر کسی بھی ادارے کو کام کی اجازت نہیں ہو گی۔

    ٭۔ذریعہ تعلیم اردو زبان ہو گی۔انگریزی کو صرف بڑی کلاسز میں بطور رابطہ زبان کے پڑھایا جائے گا۔نا کہ تمام گرائمراور لٹریچر پڑھایا جائے گا۔

    ٭ ۔ساڑھے تین سال سے کم عمر بچوں کو اسکولوں میں ایڈمیشن نہیں دیا جائے گا۔کم از کم چار سال بچوں کی کھلی جسمانی اور ذہنی نشونما ہو نی چاہیے۔

    ٭۔پہلا تعلیمی دورانیہ پہلی سے چھٹی کلاس تک ہوگا۔

    ٭۔پہلے چھ تعلیمی سالوں میں بچوں پر انتہائی توجہ دی جائے گی چونکہ اس دوران بچوں کی ان کے فطری رجحان کے مطابق مختلف شعبوں کے لئے درجہ بندی کی جائے گی۔اس کے لئے اعلی تعلیم یافتہ ماہرین نفسیات کوا سکولوں کے اس شعبہ میں تعینات کیا جائیگا۔

    ٭۔ان چھ سالوں میں بچوں کو اسلام پاکستان اور سائنس اور دیگر امور کی بنیادی تعلیم دی جائے گی۔اور مذکورہ ماہر نفسیات اور نفسیاتی ٹیسٹوں کے ذریعے بچوں کی چھٹی کلاس تک بتدریج درجہ بندی کر لی جائے گی۔

    ٭۔مذکورہ درجہ بندی کی بنیاد پر ساتویں کلاس میں بچوں کو سائنس اور آرٹس کے گروپوں میں تقسیم کر دیا جائیگا۔

    ٭۔دوسرا تعلیمی دورانیہ ساتو یں سے دسویں کلاس پر مشتمل ہوگا۔

    ٭۔اس تعلیمی دورانیہ  میں بچوں کو ان کے فطری رجحان کے مطابق سائنس اور آرٹس کے ذیلی گروپس  میں بتدریج تقسیم کر دیا جائے گا۔

    ٭۔دسویں کلاس کے بعد سائنس کے طلباء کے لئے سات سال کا تعلیمی پروفیشنل دورانیہ ہو گا۔جبکہ آرٹس کے طلباء کے لئے بھی  تعلیمی دورانیہ مقرر کیا جائے گا۔

    ٭۔یاد رہے کہ مذکورہ بالا تعلیمی دورانئے میں آخری سال مکمل عملی تربیت کا ہو گا۔

    ٭۔اسلام اور پاکستان ‘ افکارِ قائدو اقبال کا نصاب ہر کلاس میں لازمی طور پر پڑھایا جائے گا۔

    ٭۔ دسویں کلاس کے بعد ایک اوپن امتحان کا بھی اہتمام کیا جائے گا جس میں وہ طلباء جو سائنس سے آرٹس یا آرٹس سے سائنس میں آنا چاہتے ہوں گے وہ حصہ لے سکیں گے۔

    ٭۔اساتذہ کو بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    ٭۔ کسی بھی قسم کی ٹیوشن ٹائپ سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہو گی۔

    ٭ ۔یاد رہے کہ مذکورہ تعلیمی خاکے میں  ماہرین کی رائے کے مطابق ردو بدل کیا جا سکتا ہے۔

    ٭۔دوسرے اداروں کی طرح تمام مقامی اور ضلعی تعلیمی اداروں کونیٹ ورکنگ کے ذریعے اس طرح منسلک رکھا جائے گا کہ امینِ تعلیم  یا امینِ پاکستان جس وقت چاہیں آن لائن کسی بھی ادارے کو چیک کر سکیں گے۔

    ٭۔ خواتین اساتذہ کا انتظامی ڈھانچہ بتدریج اس طرح تبدیل کر دیا جائے گا کہ ان کی لائن آف رپورٹنگ میں میلز کا کوئی کردار نہ ہو۔

  • ٭٭نظامِ صحت٭٭

    ٭۔ دیگر شعبوں کی طرح نظامِ صحت میں بھی بڑے پیمانے پر اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔

    ٭۔ہر پاکستانی کو صحت کی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہو گی۔

    ٭۔ کسی بھی سرکاری اہلکار ڈاکٹر کی پرائیوٹ پریکٹس پر انتہائی سختی سے پابندی ہو گی۔

    ٭۔کسی بھی ماہر یعنی ایف سی پی ایس ڈاکٹر کے لئے ایف سی پی ایس کرنے کے بعد پندرہ سال سرکاری ہسپتال میں کام کرنا لازم ہو گا۔ان پندرہ برس کے بعد مذکورہ ڈاکٹر سرکاری نوکری چھوڑ کر پرایئوٹ  پریکٹس کر سکے گا۔

    ٭۔ ڈاکٹرز کی اخلاقی و قومی تربیت اس طور کی جائے گی کہ وہ  حقیقت میں انسانی خدمت میں فخر محسوس کریں گے۔

    ٭۔ موجودہ پسماندہ  دوردرازعلاقوں میں ہنگامی طور پر  سرکاری ہسپتالوں کو فعال بنایا جائے گا۔

    ٭۔ خواتین اور بچوں کی او پی ڈی چوبیس گھنٹے کھلی رہے گی۔

    ٭۔ایمرجنسی میں ماہر ڈاکٹرز کی تقرری کی جائے گی اور انہیں عملی کام کا پابند بنایا جائے گا۔

    ٭۔ باقی شعبوں کی طرح محکمہ صحت میں کسی قسم کی بدعنوانی کی سزا موت ہو گی۔

    ٭۔ ہسپتالوں میں بھی “پیمانہ خدمت” نصب کیا جائے گا۔

    ٭۔ باقی محکموں کی طرح محکمہ صحت میں بھی نیٹ ورکنگ سے ہر شعبہ “امینِ صحت” اور امین پاکستان کی دسترس میں ہو گا ۔ جہاں لائیو کسی بھی شعبے کو چیک کیا جا سکے گا۔

    ٭۔ کوئی اہلکار اگر دورانِ ڈیوٹی کسی قسم کی غفلت کا مرتکب پایا گیا تو  اسے ہسپتال میں ہی جلاد کے ہاتھوں کوڑے مارے جائیں گے۔

    ٭۔میڈیسن کمپنیوں کی ڈاکٹرز پر رشوت  ستانی اور دیگر بدعنوانی پر مبنی ترغیبات پر انتہائی سخت ایکشن لیا جائے گا۔

    ٭۔ مردانہ وارڈز میں خواتین نرسز کی ڈیوٹی نہیں لگے گی۔

    ٭۔اگر کسی ڈاکٹر نے کسی نرس یا لیڈی ڈاکٹریا عملہ کی کسی خاتون کو  غیر اخلاقی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی اور وہ ثابت ہو گئی تو مذکورہ ڈاکٹر کو نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا۔

    ٭۔ خواتین کے آپریشن خواتین ڈاکٹر ہی کریں گی۔

    ٭۔ وسائل کی دستیابی کے ساتھ ہی خواتین کے ہسپتال مکمل طور پر بتدریج الگ کر دئیے جائیں گے۔

    ٭۔ہسپتالوں میں واشرومز کی صفائی کا عملہ 24 گھنٹے ڈیوٹی پر موجود رہے گا۔صفائی کے معاملے میں کوتاہی کی سزا فی الفور دی جائے گی۔

    ٭۔ ڈاکٹرز نرسز یا کسی بھی سرکاری اہلکار کی جانب سے یونین سازی پر مکمل طور پر پابندی ہو گی۔ خلاف ورزی پر سزا موت ہو گی۔

    ٭۔ ادویات ساز کمپنیوں کی شرحِ منافع کو کنٹرول کیا جائے گا۔

    ٭۔ ہر دوا کی قیمت کی ایک حد رکھی جائے گی اور کوئی بھی دوا ساز کمپنی اس حد سے زائد قیمت نہیں رکھ سکے گی۔

    ٭۔ہر کمپنی کی کسی بھی دوا کو کسی بھی وقت  سرپرائز چیک کیا جائے گا۔اور اگر مذکورہ دوا  سب سٹینڈرڈ پائی گئی تو اسکی سزا موت ہو گی۔جتنی دوا لیبل پر درج ہے وہ پوری ہونی چاہیے۔

    ٭۔ لائف سیونگ ڈرگز کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

    ٭۔ مرکزی سطح پر ادویات کےقوانین کی پابندی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اور اس سلسلے میں کسی قسم کی بد عنوانی کی سزا موت ہو گی۔

    ٭۔نیوٹراسوٹیکل کے نام پر ہونے والےدھوکے فریب کو مکمل بند کر دیا جائے گا۔

    ٭۔کٹ ریٹ آئٹم ایک کھلا دھوکا ہے اسکا سختی سے تدارک کیا جائے گا۔

    ٭۔ دواساز کمپنیوں کے ڈاکٹرز کو ملنے سے متعلق ضابطہ اخلاق جاری کیا جائے گا۔ خلاف ورزی پر کمپنی پر بھاری جرمانہ ہو گا اور مذکورہ کمپنی کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔ اور جو ڈاکٹر بھی ملوث پایا گیا اسکا لائسنس بھی منسوخ کر دیا جائے گا۔

    ٭۔ ہر فارمیسی پر فارماسسٹ کا ہونا لازمی ہو گا۔

    ٭۔ فارماسسٹ کو بطور فزیشن کلینک کھولنے کی اجازت ہو گی۔

    ٭۔عطائیت کا انتہائی سختی سے مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔

    ٭۔ کوئی نجی ہسپتال یا نجی ڈاکٹر اگر اپنے ہسپتال یا کلینک کے اندر فارمیسی بنانا چا ہتا ہے تو وہ بھی لائسنس حاصل کر کے ہی ایسا کر سکے گا۔ موجودہ اٹیچ فارمیسی کا کلچر ختم کر دیا جائے گا۔

    ٭۔آکسی ٹوسن  وائلز جو جانوروں میں استعمال کی جاتی ہیں۔ انہیں بنانے اور بیچنے پر مکمل پابندی ہو گی۔ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کی سزا سرِعام پھانسی ہو گی۔

    ٭۔ مزید ہسپتالوں کی تعمیر پر ہنگامی طور پر کام کیا جائے گا۔

    ٭۔اینٹی بائیوٹیک ، سٹیرائیڈ اور انجکشن کے بے جا استعمال کوسختی سے روکا جائے گا ۔

    ٭۔اِن ڈور مریضوں کو ادویات ہسپتال کے اندر سے ہی فراہم کی جائیں گی۔

    ٭۔محکمہ صحت میں ادویات خریدنے کا موجودہ کرپٹ نظام ختم کر دیا جائے گا۔

    ٭۔نئے نظام میں مریضوں کو دی جانے والی ادویات کا مکمل کمپیوٹرائزد ریکارڈ رکھا جائے گا۔

    ٭۔ادویات کی سینٹرل پرچیز امینِ صحت کی زیرِنگرانی ہو گی۔اور اس کی تفصیلات پبلک کی جائیں گی۔کسی قسم کی بدعنوانی کی سزا موت ہو گی۔

    ٭۔تمام ہسپتال جدید ٹیکنالوجی اورنیٹ ورکنگ کے ذریعے آپس میں لنک ہوں گے۔اور ایک لائن آف رپورٹنگ کے ذریعے پورے ملک کا ڈیٹا ہر دن امینِ صحت کے پاس ہو گا۔بی ایچ ہو ، آر ایچ سی۔ تحصیل، ضلعی ہیڈ، ڈویژنل ہیڈ، زونل ہیڈ سے پھر امینِ صحت کے پاس مکمل ڈیٹا۔

    ٭۔اسمگل شدہ ادویات کی فروخت پر مکمل پابندی ہو گی۔

    ٭۔حکمت طریقہ علاج اور ادویات میں بھی اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔اور اس شعبے میں اسٹیرائڈ اور دیگر ممنوعہ ادویات کے استعمال کی سختی سے بیخ کنی کی جائے گی۔

    ٭۔ھومیو پیتھک میں بھی اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔ میٹرک پاس ڈاکٹر کا نظام ختم کر دیا جائے گا۔

    ٭۔ھومیوڈاکٹر کسی صورت ایلوپیتھک ادویات کی پریکٹس نہیں کر سکیں گے۔خلاف ورزی پر سخت کاروائی ہو گی۔

     

  • ٭پرائس کنٹرول٭

    ٭۔مہنگائی ہمیشہ سے اہم  ترین مسئلہ رہا ہے۔

    ٭۔اسکا موئثر اور مستقل سدِباب کیا جائے گا۔اور ایک مستقل طریقہ کار وضع کیا جائے گا کہ بنیادی ضرورت کی چیزیں پاکستانیوں کی دسترس سے باہر نہ ہوں۔

    ٭۔بدقسمتی سے اس مسئلہ کی سب سے بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی ہے۔ جس کی اسلام میں کسی صورت اجازت نہیں ہے۔

    ٭۔ ذخیرہ اندوزی کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑی وجہ تھرڈ پارٹی کا اس تمام عمل کو متاثر کرنا ہے۔

    ٭۔اس حوالے سے پوری کوشش کی جائے گی کہ ذمہ داران وہ سب کام بذاتِ خود ہدایت کے ساتھ چھوڑ دیں جو کہ انہیں نہیں کرنے چاہئیں۔بصورتِ دیگر اس سلسلے میں دِگہ کا ایسا استعمال کیا جائے گا کہ وہ اپنی مثال آپ ہو گا۔

    ٭۔ ہمیں ہر طبقہ کی فلاح کو دیکھنا ہے۔کہ کسی کی بھی حق تلفی  نہ ہو اور کسی کو نا جائز فائدہ بھی نا ملے۔

    ٭۔آٹا  ،چینی ،گھی یا آئل، دودھ،دالیں،چاول اور سبزیات بنیادی اشیا ہیں جو ہر گھر کی ضرورت ہیں۔

    ٭۔ موجودہ نظام میں حکومتِ پاکستان اربوں روپے سبسڈی کے نام پر فلور ملز ، شوگر ملز اور گھی ملز کو دے رہی ہے جو کرپشن کی نظر ہو رہے ہیں۔اپنی جیب سے نکال کر دوبارہ اپنی جیب میں ہی ڈالے جا رہے ہیں۔

    ٭۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ شعبوں کو اعتماد میں لے کر اِن چیزوں کی قیمتوں کو مستقل اورانتہائی سختی سے کنٹرول کیا جائے گا۔

    ٭۔اور یہ قیمت پورے پاکستان میں فکس ہو گی۔

    ٭۔اس کڑی کا پہلا حصہ کسان ہیں جو سب سے اہم ہیں۔

    ٭۔ کسانوں کی بنیادی لاگت کو کم کئے بغیر چیزوں کی قیمت کم نہیں ہو سکتی۔

    ٭۔کھاد، بیج،ڈیزل کسان کی کاشت کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ان چیزوں کی قیمتیں کم کی جایئں گی اور حکومت ان کی فراہمی کے لئے کسانوں کو بلا سود قرض بھی دے گی۔ اور کسانوں کو یہ قرض نقد کی بجائے فصل کی صورت واپس کرنے کی سہولت بھی دی جائے گی۔

    ٭۔  اس  سارے عمل میں کسانوں کی زمینی حقائق کی بنیاد پر رائے بھی لی جائے گی۔

    ٭۔کھاد کے کارخانے جنہوں نے پاکستان کا کھایا ہے اور بے انتہا کھایا ہے ۔انہیں اب پاکستان کےلئے آگے بڑھ کر قربانی بھی اتنی بڑی دینی ہو گی۔

    ٭۔کسانوں کو رعائیتی نرخوں پر ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔

    ٭۔ اعلی اور زیادہ پیداوار کے حامل بیج کسانوں کو فراہم کیے جائیں گے۔

    ٭۔ کسان کی گندم کی فی من لاگت کو تین سو روپے فی من تک لایا جائے گا۔

    ٭۔ جیسا کہ نظامِ معیشت میں بتایا گیا ہے کہ فصلوں کے کاشت شدہ رقبے، متوقع پیداوار، اور اصل پیداوار کو ہر پہلو سے مانیٹر کیا جائے گا۔

    ٭۔حکومت کسان کو فی من چھ سے سات سو کا منافع دے گی۔ یعنی اگر مذکورہ بالا حساب کو دیکھا جائے تو گندم کی سرکاری قیمت نو سو سے ایک ہزار روپے فی من ہو گی۔

    ٭۔حکومت ملکی ضرورت کے مطابق تمام گندم کاشتکاروں سے خریدے گی۔

    ٭۔ نجی مارکیٹ بھی کسانوں سے گندم خریدنے میں آزاد ہو گی۔

    ٭۔ کوئی بھی تاجر مل مالک گندم کی ذخیرہ اندوزی نہیں کر سکے گا۔ اسکی سزا انتہا ئی سخت ہو گی۔ بالعموم  اسلامی نقطہ نظر سے 40 دن سے زیادہ کسی غلے کو روکنا ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں آتا ہے۔

    ٭۔حکومت مل مالکان کی کیپیٹل انویسٹمنٹ اور پسائی اور دیگر کاسٹ کو بھی دیکھے گی اور فلور ملز جو گندم سے دیگر پروڈکٹس جیسے میدہ اور سوجی نکال کر سیل کرتے ہیں ان تمام چیزوں کا جائزہ لے گی۔اور پھر فی من آٹا کی فیکٹری قیمت مقرر کی جائے گی۔

    ٭۔اسی حساب سے پھر تھوک اور پرچون کا ریٹ مقرر کیا جائے گا۔

    ٭۔ انشااللہ فی کلو آٹے کی قیمت پرچون میں 35 روپے سے کم ہی رکھی جائے گی۔

    ٭۔انہی بنیادوں پر چینی چاول کی قیمت بھی فکس کر دی جائے گی۔

    ٭۔ یاد رہے کہ ہر طبقہ کے لئے مناسب شرح منافع کی رینج رکھی جائے گی  تاکہ ہر کسی کا سرکل مناسب انداز میں حلال طریقے سے چلے۔

    ٭۔ چینی کی قیمت پرچون میں 50 روپے فی کلو سے اوپر کسی صورت نہیں ہو گی۔

    ٭۔اسی طرح چاول کی قیمت کو بھی مناسب حد میں لایا جائے گا۔

    ٭۔گھی اور خوردنی آئیل تقریبا مکمل طور پر درآمد ہو تا ہے۔

    ٭۔کپاس کی پیداوار کو ہنگامی طور پر بڑھانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ کاٹن سیڈ آئل کو گھی بنانے میں استعمال کیا جائے گا۔

    ٭۔اللہ پاک نے پاکستان کو ہر نعمت سے نوازا ہے۔ ہمارے ملک میں  سویا بین، سورج مکھی کی بھرپور فصل لی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے کسانوں کو اس طرف راغب کیا جائے گا۔ اور انشااللہ جلد ملک کو اس شعبے کی درآمدات سے نجات مل جائے گی۔

    ٭۔ فی الوقت مذکورہ بالا طریقہ کار کے تحت  آئل اور گھی کی قیمت کو بھی سب شعبوں کے مربوط تعاون سے کم کیا جائے گا۔ اور ٹیکس کم کر کے گھی اور آئل کی قیمت بھی کم کی جائے گی۔

    ٭۔سبزی میں تھرڈ پارٹی کا بہت رول ہے جسکی وجہ سے کسان کو کچھ نہیں ملتا۔ بعض اوقات تو کسان کی لاگت بھی پوری نہیں ہوتی۔

    ٭۔ آخری صارف کو سبزی پھر بھی مہنگی ہی ملتی ہے۔

    ٭۔ہر تحصیل کی سطح تک ہر سبزی منڈی میں پرائس کنٹرول ڈیسک قائم کیا جائے گا۔

    ٭۔یہ ڈیسک مکمل طور پر  کمپیو ٹرائزڈ ہو گا۔اسکا ڈیٹا بیس ہر دن کی ہر فصل کی ڈیمانڈ اور سپلائی کا ریکارڈ رکھے گا۔

    ٭۔ ہر روز  منڈی میں آنے والی تمام اجناس کی انٹری ڈیسک میں کروا کر رسید حاصل کرنا  ضروری ہو گا۔اور منڈی میں اجناس لے کر آنے کا ایک فکس ٹائم ہو گا۔ اسکےبعد  اگر انٹری کروانی ہو گی تو اس فصل کی فروخت اس سے اگلے دن ہو گی۔

    ٭۔ ہر فصل کی لاگت پلس کسان کا مناسب مارجن رکھ کراس فصل کی فئیر پرائس کا تعین کیا جائے گا۔

    ٭۔ پچھلے دن کی ڈیمانڈ کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیئر پرائس کے ساتھ اپر لمٹ کا بھی تعین کیا جائے گا۔

    ٭۔ منڈی میں فصل کا کاروبار فیئر پرائس اور اپر لمٹ کے درمیان ہو گا۔

    ٭۔عام طور پر پورے ملک میں منڈیوں میں کاروبار فجر کے وقت شروع ہو جاتا ہے۔

    ٭۔ آٹھ بجے تک تمام فروخت مکمل کرنا  ضروری ہو گا۔

    ٭۔ نو بجے تک تمام ڈیٹا اپ ڈیٹ کر لیا جائے گا ۔اور  سافٹ وئیر سے تمام فروخت کا ریکارڈ سامنے آ جائے گا۔

    ٭۔ ایک فصل کی جو  سب سے اوپر والی فروخت کی قیمت ہو گی اور جو سب سے کم فروخت کی قیمت ہو گی۔ سستم اسکی اوسط قیمت نکالے گا اور اسکو بینچ مارک بنا کر  ہر فصل کی پرچون پرائس کا تعین سسٹم کر دے گا۔اور یہ پرائس ہر پرچون فروش اور ہر رجسٹرڈ صارف کو واٹس ایپ کر دی جائے گی۔اور منڈی کے ڈسپلے پر بھی اپ ڈیٹ کر دی جائے گی۔

    ٭۔یاد رہے کہ پرچون کی  پرائس کا تعین کرتے ہوئے پرچون فروش کے دیگر اخراجات جیسے منڈی سے دکان تک مال لے کر جانے کا اوسط کرایہ، دوکان کا کرایہ وغیرہ کو بھی مدِنظر رکھا جائے گا۔ اور پرچون کی قیمت میں یہ چیزیں اور مناسب منافع جمع کر کے پرچون قیمت فکس کی جائے گی۔

    ٭سارے سسٹم کا مقصد ہرفریق کا کاروباری  تحفظ ہے۔اور اس سافٹ و ئیر کو  سب اسٹیک ہولڈر کی مشاورت سے ترتیب دیا جائے گا۔

    ٭۔ پرچون فروش اور تمام ریڑھی ، ٹھیلہ والوں کو اس سافٹ وئیر کے ذریعے رجسٹرڈ ہونا لازمی ہو گا۔

    ٭۔ کیونکہ ریڑھی والے یا    ٹھیلہ فروش کوئی کرایہ نہیں دیتے اسلئے ان کی پرچون قیمت کا تعین کرتے وقت اس بات کو مدِنظر رکھا جائے گا۔اور انکی پرچون قیمت کم لیکن شرحِ منا فع برابر رکھی جائے گی۔

    ٭۔ کسی بھی قسم کی بد عنوانی کی سزا منڈی میں ہی پھا نسی ہو گی۔

    ٭۔ کسی بھی قسم کی ذخیرہ اندوزی پر مکمل پابندی ہو گی۔

    ٭۔ اور بنیادی ضرورت کی چیز دالیں ہیں۔ بد قسمتی سے انکے  دام بڑھنے میں ایک بہت بڑا فیکٹر ذخیرہ اندوزی ہے۔اور کریانہ کے بہت سے ایسے تھوک فروش ہیں جنکے گودام اتنے بڑے بڑے ہیں کہ وہاں ہزاروں بوریاں ذخیرہ کی جاتی ہیں۔اور موجودہ دور میں مصنوعی قلت پیدا کرکے دام بڑھا دیئے جاتے ہیں۔

    ٭۔ ہماری حتی الوسع کوشش ہو گی کہ جو لوگ بھی ایسا عمل کسی بھی وجہ سے کرتے رہے ہیں وہ خود ہدایت کے رستے پر آ جائیں۔ ورنہ پھر دِگہ انکو سیدھے راستے پر لے آئے گا۔

    ٭۔دالوں کی طلب و رسد کا مکمل جائزہ لیا جائے گا اور دستیاب اعدادو شمار کی روشنی میں اسکو پرائس کنٹرول سسٹم کے تحت سوفٹ وئیر کے ذریعے سبزی کی طرز پر مکمل کنٹرول کیا جائے گا۔

    ٭۔ زرعی سوفٹ وئیر کے فعال ہونے کے بعد ملکی پیداوار کا بھی مکمل اندازہ ممکن ہو سکے گا پھر دالوں کی قیمت ایک منا سب حد میں رکھ کر ملکی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

    ٭۔ دودھ بچوں کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ اس وقت دودھ پرڈیسو سر کا کہنا ہے کہ لاگت بہت بڑھ گئی ہے۔ اس حوالے سے اہم اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ونڈے اور چارہ کی قیمت کم کی جائے گی۔ بھوسہ کی قیمت کم کی جائے گی۔

    ٭۔ دودھ کی قیمت کو ہر ممکن کم سے کم کیا جائے گا۔اس سلسلے میں زیادہ دودھ دینے والی گائے کی نسلیں بھی امپورٹ کر کے کسانوں اور مویشی پال کو دی جائیں گی۔

    ٭۔قصابوں کے حوالے سے کوئی اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں۔ تمام قصابوں کی رجسٹریشن کی جائے گی۔

    ٭۔مویشی منڈیوں کو باقاعدہ مانیٹر کیا جائے گا۔ اور ان میں بھی جانور کی فئیر پرائس کا سسٹم بتدریج نافذ کیا جائے گا۔

    ٭۔ برائیلر کے تمام مرغی خانے رجسٹر کئے جائیں گے۔ ہر مرغی خانہ کی پیداوار اور مارکیٹ سپلائی کو مانیٹر کیا جائے گا۔ اور فی کلو گوشت کی لاگت کے ساتھ مرغی خانہ مالکان کی ایک منا سب شرحِ منافع رکھ کر ایکس فارم ریٹ مقرر کیا جائے گا۔

    ٭۔ چونکہ اس کاروبار کے ساتھ ایسے بہت سے لوگ بھی وابستہ ہیں جو سپلائر کا کام کرتے ہیں۔ انکی بھی رجسٹریشن کی جائے گی۔ انکا مارجن رکھ کر انکے لئے بھی ریٹ مقرر کیا جائے گا۔

    ٭۔مرغی کی فیڈ کی لاگت بھی کم کی جائے گی۔جب مرغبانی کی لاگت کم ہو گی تو انشااللہ آخری صارف کو گوشت اور انڈے مناسب کنٹرول ریٹ پر ملیں گے۔

    ٭۔موجودہ پرچی سسٹم جو کہ کرپشن میں لتھڑا ہوا ہے اسے فوری ختم کیا جائے گا۔

    ٭۔ اسی طرح پرچون فروشوں کا بھی ریٹ انکے جملہ اخراجات اور مناسب شرح منا فع کے ساتھ مقرر کیا جائے گا۔

    ٭۔  انشااللہ جیسا پہلے بتایا جا چکا کہ ہر کاروبار میں شراکت کار ہر طبقے اور صارف کے مفادات میں ایک متوازن شرح قائم رکھی جائے گی۔

    حضرتِ اقبالؒ فرماتے ہیں۔

    قدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے

    دنیا میں بھی میزان قیامت میں بھی میزان

     

  • ٭٭پاک۔آئی ڈی٭٭

    ٭ پاک آئی ڈی موجودہ نادرا کی ایک مثبت پیش رفت ہے۔

    ٭۔ پاک آئی ڈی کا مکمل خود کار اور جامع نظام متعارف کروایا جائے گا۔

    ٭۔  یہ  ان لوگوں کے اعتراضات کا جواب بھی  ہے جنہیں صوبائی خودمختاری اور مرکزیت کے حوالے سے اعتراضات کا دورہ پڑ سکتا ہے۔

    ٭۔ اس نظام کے تحت ہر پاکستانی  شہری کو اسکے معا ملات میں از حد ممکن شخصی خود مختاری دے دی جائے گی۔ اسے کسی بھی سرکاری کام کے حوالے سے کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور،اسلام آباد جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔بہت حد تک اگر ضرورت پڑی تو اپنی متعلقہ تحصیل تک جانا پڑ سکتا ہے۔

    ٭۔  انشااللہ یہ ایک بہت وسیع نظام ہو گا  جو ہمارے ملک سے کرپشن ختم کرنے میں، قومی سطح پر ہر شعبہ کے متعلق درست اعدادوشمار مرتب کرنے میں  بہت اہم کردار ادا کرئے گا۔

    ٭۔انشااللہ ہمارے آبادی وسائل اور ہمہ گیر قسم کے اعداوشمار ہمہ وقت اپ ڈیٹ رہیں گے۔

    ٭۔ یہ ایک ہمہ گیرقسم کی ایپ ہو گی۔جو جدید ترین سکیورٹی فیچر سے بھرپور ہو گی۔

    ٭۔ پاک آئی ڈی کا نمبر ہر پاکستانی کے قومی شناختی کارڈ  کا نمبر ہو گا۔

    ٭۔ ایپ لاگ اِن کا ایک جامع طریقہ کار ہو گا۔

    ٭۔ ہر پاکستانی اپنے پاس ورڈ سے متعلق معلومات  صرف اپنی حد تک رکھنے کا پابند ہو گا۔

    ٭۔ ہر پاکستانی ہر سرکاری کام کی درخواست اس کے ذریع خود دے سکے گا۔ مثلا ڈرایئونگ لائسنس کا حصول، پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ، بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ،اپنی ملکیت زمین کا ریکارڈ، گھر کا ریکارڈ، اپنے پیشے کے متعلق معلومات،اور بھی مزید آپشن ہوں گے۔

    ٭۔ کسانوں کےلئے قرض کا حصول، زمین کا ریکارڈ، ٹیکس معلومات،  بچوں کی شادی کا اندراج، “پیمانہ خدمت” کے حوالے سے آپکی معلومات،اپنی وصیت، جائداد کا ریکارڈ۔

    ٭۔ انشااللہ یہ پروجیکٹ اپنی مثال آپ ہو گا۔

    ٭۔ آگے چل کر اسی سسٹم کو الیکشنز کے لئے بھی استعمال کیا جائے گا۔

    ٭۔ کسی بھی سرکاری  معاملات کے متعلق شکایت۔

    ٭۔ غرض یہ کہ ہر پاکستانی کے لئے ہر ممکن سہولت ہو گی اس سسٹم میں انشااللہ۔

    ٭.چونکہ فی الحال پاکستان میں شرح خواندگی کم ہے اسلئے شروع میں پاک۔آئی ڈی کے حوالے سے میڈیا کے ذریعے اسکے استعمال کے متعلق مکمل رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

    ٭. اسکے استعمال کے حوالے سے ہیلپ سنٹرز اور 24 گھنتے ٹال فری نمبرز سے ہر ممکن رہنمائی دی جائے گی۔

    ٭.اس حوالے سے تمام ڈیٹا امینِ داخلہ کی زیرِ نگرانی اسلام آباد میں اپ ڈیٹ رکھا جائے گا۔

    ٭۔اس حوالے سے تمام پاکستانی بالخصوص وہ جو آئی۔ٹی کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ان سے اپیل ہے کہ اپنے گھر پاکستان کے لئے اس حوالے سے خدمت کے لئے آگے آئیں اور ہمارا ساتھ دیں۔

    ٭۔حضرتِ اقبال فرماتے ہیں۔۔

    اٹھ کہ بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے

    مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے