Category: پاکستان

پاکستان کا مستقبل

  • ٭گھر پاکستان٭

    نہیں بھائی یہ میرا کام نہیں۔ میں کیا کر سکتا ہوں بھائی

    ٭۔یہ وہ بات ہے جو بدقسمتی سے مجھےآپ کو ہر طرف سننے کو ملتی ہے۔

    ٭۔میری آپکی یا کہیں ہم سب کی 78 سال یہی سوچ رہی ہے کہ بھائی ہم کچھ نہیں کر سکتے اور یہ ہمارا کام نہیں ہے نتیجہ کے طورپر وطنِ عزیز پاکستان اس حالت کو پہنچ گیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ٭۔فرض کریں آپ ایک ڈاکٹر ہیں  انجینئر ہیں ایک صحافی اینکر پرسن ہیں ایک استاد ہیں دوکاندار ہیں مزدور ہیں کسان ہیں یا طالبعلم ہیں سرکاری یا نجی ملازم ہیں۔یا آپ ایک خاتون ہیں۔

    ٭۔آپ ایک گھر میں اپنی فیملی کے ساتھ سکون سےرہ رہے ہیں۔

    ٭۔ ایک دن اچانک آپکے گھر میں آگ لگ جاتی ہے۔

    ٭۔آپ تو ایک ڈاکٹر یا صحافی وکیل انجینئر دوکانداراینکر پرسن یا خاتون ہیں۔ آپ آگ بجھانے والے نہیں ہیں۔اپنی موجودہ سوچ کے تناظر میں تو ہمیں ریسکیو کو کال کرکے سکون سے بیٹھ جانا چاہیے کہ آگ بجھانا انکا کام ہے وہ آئیں گے تو آگ بجھائیں گے۔آگ بجھانا آپکا کام تو نہیں ہے۔

    ٭۔لیکن عملی طور پرتو ایسا کبھی نہیں ہوتا۔جس گھر میں آگ لگی ہو وہاں کا ڈاکٹر انجینئر اینکرپرسن دوکاندار مرد و عورت بوڑھا جوان سب آگ بجھانے کے لئے دیوانہ وار کوششیں کرتے ہیں۔

    ٭اور اکژ اوقات ریسکیو کے آنے سے پہلے آگ بجھا چکے ہوتے ہیں۔

    ٭٭آپکے میرے ہم سب کے گھر “پاکستان” میں بھی 78 سال سےآگ لگی ہوئی ہے۔اور اب یہ آگ اپنی انتہائی آخری  خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔٭٭

    ٭۔ظلم جبر، نا انصافی، عدم مساوات،غربت،جاہلیت،بےروزگاری،مہنگائی،عدم برداشت،کرپشن،رشوت ، سفارش اورلاقانونیت کی آگ۔لسانی، گروہی، صوبائی عصبیت کی آگ۔

    ٭۔اپنی ایمانداری سے فیصلہ کریں کہ کیا یہ ہمارا فرضِ عین نہیں ہے کہ ہم اپنے “گھر پاکستان” کو اس آگ میں جلنے سے بچانے کے لئے اب اٹھ کھڑے ہوں۔اوراسی راہ پر چلیں جس پر چل کر ہمارے بزرگوں نے ہمیں آزادی کی نعمت سے سرفراز کیا۔

    ٭۔آیئں سب مل کرصرف پاکستانی بن کر اس “آگ” کو بجھانے کے لئے اپنا اپنا کردارپوری ایمانداری محنت اور بنا کسی ڈر اور خوف کے ادا کریں جو ہمارا فرضِ عین ہے۔

    ٭۔یہ ہمارا گھر ہے ہمیں ہی اسکے لئے آگے آنا ہےاوراس آگ کوہر صورت بجھانا ہے۔ہمارا گھر ہے تو ہم سب ہیں۔

    ٭۔ہم انشااللہ 1947 کے اسی جذبے حوصلے  ہمت کے ساتھ عملی کوشش کریں  گے تو انشااللہ ، اللہ پاک سرکارﷺ کے صدقے ہمیں اس مقدس راہ میں ضرور سرخرو کرے گا۔جیسے ہمارے بزرگوں نے سرخرو ہو کر ہمیں اپنا ” گھر پاکستان” دیا۔

    حضرتِ اقبالؒ فرماتے ہیں۔

                 اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

               کہ خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولؑ ہاشمی

    ٭۔ہمارا گھر ہمارا وطن ہمیں پکار رہا ہے اور یاد رکھیں یہ آگ ہمیں ہی بجھانی ہے اس لیے کہ یہ ہمارا گھر ہے۔انکا گھر نہیں ہے جنہوں نے78سال اسکو آگ لگائی ہے۔اور انشااللہ ہم یہ آگ ہرصورت بجھائیں گے۔اور اس مقصدِ عظیم میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔اگر جان کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا توانشااللہ قائدؒو اقبالؒ کے قدموں کی خاک یہ گناہ گار اپنی جان اپنے “گھر پاکستان” پر سب سے پہلے قربان کرئے گا۔

    ٭۔آئیں سب مل کر اپنے “گھر پاکستان”کوحقیقی پاکستان بنانے کے لئےایمان اتحاد اور تنظیم کے زریں اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔ بے شک قائدِ اعطمؒ  یہ رہنما اصول ہماری قومی زندگی کا اثاثہ ہیں اور یقینِ کامل رکھیں کہ اللہ پاک نے اپنی رحمت سے سرکارﷺ کے صدقے جوبصیرت قومِ رسولِؑ ہا شمی کو عطا فرمائی ہےوہ کسی کو عطا نہیں فرمائی۔ اور انشااللہ اسی بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے سرکارﷺ کی نظرِ کرم کے صدقے ہم اپنے “گھر پاکستان” میں لگی اس آگ کونہ صرف ختم کریں گے بلکہ انشااللہ اسے ایک مثالی اسلامی فلاحی مملکت بھی بنائیں گے۔ 

    اور دنیا دیکھ لے کہ

    اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا

    تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں۔

  • ٭ بیس منٹ٭

    آپ میں ہم سب اس دھرتی کے باسی ہیں۔پاکستان جہاں اوسط عمر 50 سال رہ گئی ہے۔اس 50 سال اگر منٹ بنائیں توتقریبا2 کروڑ 63 لاکھ منٹ بنتے ہیں۔

    آپ چاہے خاتون ہیں یا مرد۔مجھے آپکے صرف بیس منٹ چاہیئں۔صرف بیس منٹ ۔کہ اس گذارش کو دل سے پڑھیں اورصرف بیس منٹ دنیا کی ہر چیز کو بھول کر جو لکھا ہے اسے سوچیں۔سوچیں۔۔۔۔۔سوچیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صرف بیس منٹ کےلئے سوچیں کہ آپ نے بیس منٹ بعد مر جانا ہے۔

    اب سرکارﷺ کا فرمان ذہن میں لائیں۔ فرمایا۔

    “تم میں سے ہر کوئی راعی ہے اور اس سے اسکی رعیت بارے سوال ہو گا”

    اب سوچیں کہ میں نے گزری زندگی میں کیا کیا۔

    غلط اور درست کا مجھے پتا تھا پر میں چپ رہا۔ برائی اور اچھائی کا مجھے ادراک تھا مگر میں چپ رہا۔اپنے سامنے ظلم جبر ناانصافی عدم مساوات کو دیکھتا رہا ۔اور دل میں خیال آتا رہا کہ ہمیں کیا۔

    آزادی جیسی انمول نعمت کا مجھے پتا تھا مگر میں اسکی قدر کرنے سے عاری رہا۔

    اپنے پاکستان کو 78 سال سے لٹتا تباہ ہوتا دیکھ کر بھی میں نے کبھی نہیں سوچا کہ مجھے اسکے لئے عملی طور پر کچھ کرنا چاہیے۔ میں یہ سوچ کر چپ رہا کہ جو بھی ہے میرا گھر تو محفوظ ہے۔

    ظلم و جبر نا ا نصافی زیادتیوں کی انتہا ہو گئی مگر میں چپ رہا پر سکون رہا کہ مجھ پر یا میری اولاد پر تو یہ سب کچھ نہیں ہو رہا نا ۔مجھے کیا۔ جو ہوتا ہے ہو۔

    سرکارﷺ کے حکم کو بھلا دیا کہ

    تم میں کوئی برائی کو دیکھے تو ہاتھ سے اسے روکےاگر اسکی طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے روکے اگر اسکی طاقت نہ رکھتاہو تو دل سے برا جانے اور اسکے خاتمے کا سوچے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔

    میں ایمان کے کمزور ترین درجے پہ بھی نہ رہاکہ میں خودغرض ہو گیا کہ میں نے برائی کو برا سمجھنا اور اسکے تدارک کا سوچنا تک چھوڑ دیا کہ بس ٹھیک ہے یار جو ہوتا ہونے دو ہمیں کیا۔یار دنیاداری ہے کیا کریں سب چلانا پڑتا ہے۔

    خود غرضی کی انتہا کر دی میں نے۔

    حضرتِ اقبالؒ فرماتے ہیں۔۔۔۔

    خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے

    میں اسکا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

    میں کبھی نہ سوچا کہ مجھ پر اللہ کے بندوں کے کیا حقوق ہیں۔ میں خود غرضی کی انتہا پر رہا کہ بس پیسہ ہو اور ہو اور ہوپلاٹ ہو دکان ہو سونا ہو ۔ چاہے  یہ سب حاصل کرنے کے لئے اپنے ہم وطنوں ،مسلمان بھائیوں اور اس وطن کا کچھ نہ رہے۔

     بیس منٹ بعد میں اس دنیا میں نہیں رہوں گا اور جب میرے دنیاوی رشتے مجھے قبر میں بے یارومددگار چھوڑ کر چلے جائیں گےجن کی وجہ سے میں نے کبھی برائی کو روکنے کا نہ سوچا کہ میری فیملی کو کوئی مسئلہ نہ ہو۔میرے بچوں کو کچھ نہ ہو جائے۔میرے  جائز و نا جائز مال کو کچھ نہ ہو جائے۔

    وہ فیملی وہ اولاد تومجھے قبر میں ڈالنے کے بعد دس منٹ بھی نہ رکے۔ جن کے تحفظ کے ڈر سے میں نے کبھی برائی کو روکنے کا نہ سوچا۔اگر خیال بھی آیا تو اسے بھی دل سے نکال دیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب میں قبر میں اکیلا بے یارو مددگار پڑا ہوں۔ میں کس منہ سے سرکارﷺ کی شفاعت کی توقع کروں۔جب میں نے سرکارﷺ کے ارشادات پہ ہی عمل نہ کیا۔میں قبر میں پڑا سوچ رہا ہوں کہ میں نے کتنا گھاٹے کا سودا کیا۔کاش مجھے ایک دفعہ پھر دنیا میں جانے کا موقعہ مل جائے لیکن وہ کاش کاش ہی رہناہے۔

    مجھے ان بیس منٹ میں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ مجھے قبر میں بے یارومددگار سرکارﷺ کی شفاعت سے محروم ہو کر پچھتانا ہےیا جو مہلت اللہ پاک نے بقیہ زندگی کی صورت مجھے دی ہے اس میں مجھے اپنےآپ کو سرکار ﷺ کا سچا غلام بناتے ہوئے سرکار ﷺ کے احکامات پر مکمل عمل کرکے اپنے آپکوسرخرو کرنا ہے ۔ حضرتِ علامہ اقبال فرماتے ہیں۔

    محمدؐ کی غلامی دینِ حق کی شرطِ اول ہے

    اگر اسی میں ہو خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے

     فرمانِ سرکار ﷺ ہے کہ

    بہترین جہاد ظالم حکمران کے آگے کلمہ حق کہنا ہے۔

    ایک اور فرمانِ سرکار ﷺ ہے کہ

    تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے وہ چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔

    ایک اور فرمانَ سرکارﷺ ہے کہ

    مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر جسم کے کسی حصے کو تکلیف ہو تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔

    میں قبرکی تاریکی میں پڑا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کاش کوئی مجھے ایک دفعہ ہی احساس دلا دیتا تو میں سرکارﷺ کا سچا غلام بنتا آپؑ کے احکامات پرمکمل عمل کرتااور آج میں پچھتاوے سے بچ جاتا۔یہ “بیس منٹ” یہی احساس دلانے کی کوشش ہے۔ 

    حضرتِ اقبال فرماتے ہیں۔

    اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں

    مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا الله

    ہم میں سے ہر کوئی اپنے آپ کو اس “بیس منٹ”کے فریم میں رکھ کے دیکھے۔ کیا ہمارے پاس قبر میں صرف پچھتاوا ہی پچھتاوا نہیں ہو گا ؟

    ایمانداری سے تجزیہ کریں توبے شک ہم سب پچھتاوا کی کیٹگری میں آتے ہیں ۔

    استاد، دانشور، میڈیا پرسنز، اس ملک کا وہ طبقہ ہے جس پر سب سے زیادہ ذمےداری عائد ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ ٹی وی،اخبار ،سوشل میڈیا پروطنِ عزیز کے حا لات کی نوحہ گری کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے بڑا کام کر دیا۔ لمبی تنخواہیں مراعات، یو ٹیوب اور سوشل میڈیا کی کمائی الگ۔یہ میرے تمام محترم اپنے آپ کو “بیس منٹ” کے فریم میں رکھ کر دیکھ لیں۔تو یقینا” انہیں احساس ہو گا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں پاکستان کےلئے عملی طور پر بہت کچھ کرنا چاہیے۔

    ؂ شاید کہ ترے دل میں اتر جائے میری بات۔

    ہر پاکستانی اپنے آپ کوصرف بطور پاکستانی بیس منٹ کےلئے سوچے تو ہر کسی کے دل سے یہی نکلے گا کہ ہم 78 سال غفلت اور خودغرضی میں پڑے رہے۔ ہمیں احساس ہی نہیں دلایا گیا کہ ہم کتنا گھاٹے کا سودا کر رہے ہیں۔

    لیکن اب ہمیں احساس ہو گیا ہے کہ ہمیں اسی راہ پہ واپس آنا ہے جس راہ پر چل کر ہمارےبزرگوں نے یہ انمول وطنِ عزیز پاکستان حاصل کیا تھا۔1947 کے پلیٹ فارم سے ہم انشااللہ دوبارہ اسی راہ پر چلیں گے جو ہماری حقیقی کامیابی کی راہ ہے۔اور پاکستان کو وہ پاکستان بنائیں گے جس کا خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا اور جس کے حصول کےلئے قائدِاعظمؒ کی قیادت میں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی قربانی دی گئی۔یعنی اسلامی فلاحی ریاست۔

    اس راہ کو حضرتِ علامہ اقبال نے یوں بیان فرمایا۔

    قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

    دہر میں اسمِ محمدؑ سے اجالا کر دے

  • ٭دو حکایتیں٭

    ٭ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ پاک نے دہکتی آگ سے زندہ سلامت ہی نکالنا تھا  یہ طے تھا۔ لیکن جب ان کو آگ میں ڈالا گیاتوآگ دہک رہی تھی توایک  بچھو آگ کو پھونکیں مار مار کر مزید دہکانے کی اپنی سی کوشش کر رہا تھا۔

    جبکہ ایک چڑیا دور ایک ندی سے پانی کی ایک بوند اپنی چونچ میں بھر کر لاتی اور اس دہکتی آگ پر  ڈال رہی تھی۔وہ آگ بجھانے کی اپنی سی کوشش کر رہی تھی۔

    نا تو بچھو کی پھو نکوں سے آگ نے مزید دہکنا تھا  اور نہ ہی چڑیا کی ایک ایک بوند  آگ کی شدت کم کر سکتی تھی۔یہ ایک سبق تھا ہمارے لئے کہ کسی آزمائش میں ہم  اپنی بساط میں  چڑیا کا کردار ادا کرتے ہیں یا بچھو کا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ٭  ایک جنگل میں چیونٹیوں کا ایک بل یعنی گھر تھا۔ وہاں قریب ایک اژدہا بھی رہتا تھا۔

    ایک دن وہ اژدہا ان چیو نٹیوں کے پاس آیا اور انہیں  کہا کہ مجھے تمہارا گھر پسند آ گیا ہے یہ جگہ خالی کر دو۔ کچھ چیونٹیوں نے اس اژدھے پر حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس اژدھے کی پھنکار سے وہ دور جا گریں۔ وہ اژدھا ہنستا ہو ا  چلا گیا۔جاتا ہوا کہہ گیا کہ کل تک یہ جگہ خالی کر دو ورنہ کسی کی خیر نہیں۔

    اسکے جانے کے بعد تمام چیونٹیاں اکٹھی ہوئیں اور سوچ بچار شروع کر دی کہ اس مسئلے کا کیا حل کیا جائے۔

    سب نے اپنی اپنی رائے دی۔اکژیت نے کہا کہ اژدھا بہت طاقتور ہے ہم اسکا مقابلہ نہیں کر سکتے لیکن پھر ایک چیونٹی نے کہا کہ بے شک اژدہا  بہت طاقتور ہے لیکن اگرہم سب مل کر ایک ساتھ اس پر حملہ کر دیں تو ہم اسکو مار سکتی ہیں۔کیو نکہ خدا بھی انکی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ سب چیونٹیوں نے اسکی رائے سے اتفاق کیا اور آپس میں عہد کیا کہ ہم مر جائیں گی لیکن پیچھے نہیں ہٹیں گی۔

    اگلے دن وہ اژدہا اپنی طاقت کے نشے میں دھت آتا ہے اورچیونٹیاں مل کر اس پر حملہ کر دیتں ہیں۔اژدھے کی پھنکار سے بہت سی چیونٹیاں دور جا گرتی ہیں۔ لیکن چیونٹیاں ہمت نہیں ہارتیں اور دوبارہ مل کر اژدہے پر حملہ کر دیتیں ہیں۔ کچھ ہی دیر میں اژدہا نڈھال ہو کر گر پڑتا ہےاور مر جاتا ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہی فیصلہ کن وقت ہے انشااللہ ہمیں اس آزمائش میں پورا اترنا ہے اور ثابت کرنا ہے کہ مسلمان اللہ پاک کے سوا کسی سے نہیں ڈرتااور ہر پاکستانی حضرتِ اقبالؒ کا شاہین ہے جس نے  ایمان ،اتحاد، تنظیم کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئےپاکستان کو حقیقی اسلامی پاکستان بنانے کےلئے دن رات انتھک محنت کرنی ہے۔ اسی جزبے ہمت اورقوتِ ایمانی کا ثبوت دینا ہے جس کا مظاہرہ ہمارے بزرگوں نے کر کے پاکستان حاصل کیا تھا۔

    حضرتِ اقبال نے فرمایا۔

    شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا

    پر دم ہے اگر تو،تو نہیں ہے خطرہِ افتاد

            

    ایک اور جگہ فرمایا۔

    یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

    جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

  • ٭ پہلا قطرہ٭

    ہم کون ہیں۔ہم آپ ہیں۔ آپ ہم ہیں۔ہم سب ایک ہیں۔ ہم  پاکستان ہیں۔الحمدوللہ انشااللہ ہم “پہلاقطرۃ” ہیں۔

    ہم میں سے اکثر نے اردو ٹیکسٹ بک میں  نظم پڑھی ہو گی ۔پہلا قطرہ۔

    مختصر خلاصہ نظم ہے کہ تپتی دوپہر میں جب انتہا کی گرمی تھی اور زمین کے باسی جان لیوا حبس اور گرمی سے بے انتہا پریشان تھے۔

    ایسے میں بادل آتے ہیں لیکن زمین کی گرمی کی شدت کو دیکھ کر بادل میں موجود بارش کے کسی قطرے کو زمین کی طرف جانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ہر قطرہ کے دل میں خوف ہوتا ہے کہ میرے جانے سے اس قیامت خیز گرمی کوتو کچھ اثر نہیں پڑے گا لیکن میں اپنا آپ گنوا بیٹھوں گا۔ ہر قطرہ ڈرا سہما ہوتا ہے۔

    ایسے میں ایک قطرہ یہ سوچتے ہوئے ہمت کرتا ہےکہ بے شک میں بہت معمولی ہوں اور زمین پہ جاتے ہی اپنا وجود کھو بیٹھوں گا لیکن مجھے اپنی سی کوشش ضرور کرنی چاہیے کہ جو میں کر سکتا ہوں وہ میرا فرض ہے کہ میں ضرور کروں۔

    یہ سوچ کہ وہ قطرہ زمین کی طرف لپکتا ہے۔

    اس قطرہ کی ہمت اور جرات کو دیکھ کر باقی قطروں کو بھی حوصلہ ملتا ہے اور ایک کے بعد ایک قطرہ زمین کی طرف لپکتا ہے۔

    کچھ ہی دیر میں موسلادھار بارش شروع ہو جاتی ہے۔ہر قطرہ اس بارش کا حصہ بن جاتا ہے۔ اور زمین کے باسیوں کوجان لیوا گرمی حبس سے نجات مل جاتی ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ٭1947بھی انشااللہ وہ پہلا قطرہ ہے جو وطنِ عزیز پاکستان کو حقیقی پاکستان بنانے کے لئےاللہ پاک کی سرکارﷺ  کے صدقے رحمت ، توفیق و مدد کا مظہر اور سرکارﷺ کی نظرِکرم کا ثمر ہو گا۔

    ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرئے۔ تاکہ ظلم و جبر عدم مساوات اخلاقی پستی و گمراہی کی جان لیوا حبس و گرمی کو ختم کرکےاس پاکستان کی تعمیر کی جا سکے جو اقبالؒ کا خواب ، قائدؒ کی انتھک محنت کا ثمر ہو جس کےلئے انسانی تاریخ کی بے مثال قربانیاں دی گیئں۔

    بقول فراز۔

    شکوہِ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا

    اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

  • ٭ 1947 کیا ہے٭

    ٭ ۔1947  اس بات کا پیغام ہے کہ ہم آپ ہیں۔آپ ہم ہیں۔ ہم پاکستان ہیں۔ہم سب ایک ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے 1947 میں تھے۔ ہم کوئی لیڈر نہیں ہم قائدؒواقبالؒ کے پیروکارہیں اور انکے قدموں کی خاک برابربھی نہیں ہیں۔

    ٭-1947 ایک پلیٹ فارم ہے جس میں ہم سب ایک ہیں ۔ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ہمارے غم خوشیاں سب ایک ہیں۔

    ٭۔1947اس کا اعلان ہے کہ ہم اس سبز ہلالی پرچم کے پاسبان ہیں جو عطائے گنبدِ خضراﷺ ہے۔

    ٭۔1947 سرکارﷺ کے فرمان کا عملی اعلان  ہے کہ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی مانند ہے کہ جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم اسے محسوس کرتا ہے۔

    ٭۔1947۔ایک پلیٹ فارم ہے جس سے ہم انشااللہ اپنے بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔ انکے رہنما اصولوں کو مکمل طور پر اپنائیں گے وہ اصول جن پر چل کر پاکستان حاصل کیا گیا۔

    ٭۔1947۔اس راہ پر واپسی کا نام ہے جس کو ہم نے باباؒ کی وفات کے بعد کھو دیا تھا۔

    انشااللہ ہم اسی راہ پر چل کر پاکستان کو وہی پاکستان بنائیں گے جس کا خواب حضرتِ علامہ اقبالؒ نے دیکھا اورجس کے لئے حضرت قائد اعظمؒ کی قیادت میں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی قربانی دی گئی۔

    ٭۔1947۔اسی راہ پر واپسی کا اعلان ہے جس سے ہم 78 سال قبل بھٹک گئے تھے اور 78 سال سے اس گمراہی کے نتیجے میں بدترین ذلت و رسوائی کا شکار ہیں۔

    ٭۔  1947 ۔      ایمان اتحاد تنظیم         کا اعلان ہے۔

    ٭۔ 1947 ۔           قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

    دہر میں اسمِ محمدؑ سے اجالا کر دے             کا اعلان ہے

    ٭۔1947 ۔    پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا الله محمد رسول الله                 کا اعلان ہے۔

    ٭۔1947 ۔   پاکستان کی خاموش اکثریت کا پلیٹ فارم ہے جو 78 سال سے اپنے ملک کے حالات پر کڑھ رہی ہے ۔روز مرتی روز جیتی ہے۔ جس کا اب یہ فیصلہ ہے کی روز روز کے رونے سے ایک دن کا رونا ہی بہتر ہے۔

    ٭۔1947۔ ہر پاکستانی کا پلیٹ فارم جو اپنے پاکستان کو قائدو اقبال ؒکے افکار کی روشنی میں ایک حقیقی فلاحی اسلامی مملکت بنانے کی تڑپ رکھتا ہے۔

    ٭۔1947 ۔                  کی محمدؑ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

     یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں          کا اعلان ہے۔

  • ٭1947مقاصد٭

    ٭۔ اللہ پاک کے احکامات، سرکارﷺ کے ارشادات  کا مکمل نفاذ کرنا اور خلفائے راشدین کے زریں دورِ خلافت سے استعفادہ کرتے ہوئے امورِ مملکت کو مرتب کرنا۔ انشااللہ جس کے نتیجے میں حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کا ماڈل قائم کرنا۔  

    ٭۔ ایمان اتحاد اور تنظیم کے زریں اصولوں کو اپنی قومی زندگی کا حصہ بنانا۔ جن پر عمل پیرا ہو کر ہم انشااللہ پاکستان کو حقیقی پاکستان بنا سکیں گے۔ یعنی پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ۔

    ٭۔ پاکستان کو موجودہ فرسودہ اور استحصالی نظام سے نجات دلانا۔

    ٭ ۔نظریہ پاکستان کی روشنی میں پاکستانی قوم اور معاشرہ کی تشکیل کرنا۔

    ٭۔ موجودہ فرسودہ نظام کی جگہ ایک مکمل پاکستانی نظام کی تشکیل جس کی اساس اسلامی فلسفہ حیات ہو گی۔

    ٭۔ غیر پیداواری اور غیر ضروری سرکاری انتظامی اخراجات کا  مکمل خاتمہ کرنا۔

    ٭۔حقیقی اسلامی تعلیمات سے دنیا کو روشناس کرانا۔

    ٭ ۔بابائے قوم کے ارشادات کی روشنی میں صوبائی علاقائی لسانی اور گروہی  مذہبی عصبیت کا خاتمہ کرنا اور ایک با وقار پاکستانی سوچ کو پروان چڑھانا۔

    ٭ ۔بابائے قوم کے ارشادات کی روشنی میں پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی مملکت بنانا جس کا وعدہ ہم نے اللہ پاک اور رسولِ پاکﷺ سے قیام پاکستان کے وقت کیا تھا۔

    ٭۔ اسلامی مساوات کی بنیاد پر ہر پاکستانی کے یکساں حقوق کوہر صورت یقینی بنانا۔

     ٭۔تمام سماجی  برائیوں مثلا جہیز فحاشی بے حیائی جسم فروشی کامکمل تدارک کرنا۔

    ٭۔ بابائےقوم کے ارشادات کی روشنی میں تمام امورِ مملکت کی ازسرِنو تشکیلِ کرنا۔

    ٭۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معاشرہ میں خواتین کے تقدس کوسختی سےمکمل بحال کرنا۔اور ایسا ماحول پیدا کرنا کہ جس میں ہر فرد عورت کو بحیثیت ماں، بہن، بیٹی کے تقدس اور احترام کی نظر سے دیکھے گا۔

    ٭۔اسلام کے باوقار اصولوں کے تحت خواتین میں پردہ کے احکامات کو نافذ کرنا۔اس سلسلے میں شعور کو اجاگر کرنا۔

    ٭۔ نوجوان نسل کو تحریک پاکستان اور مقصدِ حصولِ پاکستان سے آگاہ کرنا۔

    ٭ ۔اردو کو قومی زبان کے طور پر مکمل عملی طور پرنافذ کرنا۔

    ٭۔ یتیموں بیواوں کی مکمل کفالت بیت المال سے کرنا اور ان طلاق یافتہ خواتین کی جن کا کوئی سہارا نہ ہو۔اس انداز سے کہ کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔

    ٭۔ ہر قسم کی غیر اخلاقی فحش اور غیر اسلامی باتوں کا خاتمہ کرنا۔

    ٭ ۔ حضرتِ اقبال اور قائدِاعظم کے افکار سے تمام پاکستانیوں کو روشناس کرانا۔

    ٭ ۔ پاکستان ہمارا انمول گھر ہے۔سب پاکستانیوں کے حقوق برابر خیبر سے خضدار تک  کشمیرسے کراچی تک۔لاہور سے لورالائی تک۔اس گھر میں اگر دال پکے گی تو سب دال کھائیں گےاگر گوشت پکے گا تو سب گوشت کھائیں گے۔ فاقہ ہو گا تو سب فاقہ کریں گے۔

    ٭۔ خاندانی نطام کو دوبارہ سے فعال کرنا۔ اور اس سلسلے میں میڈیا کو استعمال کرنا۔

    ٭۔معا شی نظام کو اسلامی بنیادوں پر استوار کرنا۔

    ٭۔پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکالنا۔

    ٭۔قرضوں کی دلدل سے ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ پاکستان کو نکالنا۔

    ٭۔  خسارہ میں چلنے والے قومی اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کرنا۔

    ٭۔ صحت و تعلیم کی سہولت ہر پاکستانی تک پہنچانا۔ امورِ مملکت میں سیدنا حضرتِ عمرؓ کے طرزِ حکمرانی سے مکمل راہنمائی لیتے ہوئے انکا نفاذ کرنا۔

    ٭ ۔1952 تک کےتمام حکمرانوں کا بلاتفریق احتساب کرنا ۔

    ٭۔ ہر اس سرکاری اہلکار کا احتساب کرنا جس نے اس ملک کی ایک پائی بھی کھائی ہے۔

    ٭ ۔ہر شعبے میں اصلاحات نافذ کرنا ۔ شارٹ ٹرم، میڈیم ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبہ بندی کو امورِ مملکت کے ہر شعبے پر نافذ کرنا۔

    ٭۔ان اصلاحات کا ہر شعبے کے لحاظ سے الگ الگ ذکر اگلی پوسٹوں میں تفصیل سے کیا گیا ہے۔

  • ٭آپکو کیا کرنا ہے ٭

    سوال یہ ہے کہ آپکو کیا کرنا ہے؟

    ٭۔یاد رکھیں کہ ہم آپ ہیں۔آپ ہم ہیں۔ہم سب  ایک ہیں۔ہم پاکستان ہیں۔

    ٭۔نہ تو ہمارے پاس جائزوناجائز پیسہ ہے کہ ہم جلسے کریں۔ میڈیا سوشل میڈیا پر فنڈنگ کریں۔

    ٭۔اس ساری جدوجہد میں آپ ہی سب سے اہم ہیں۔ اس لئے کہ آپ پاکستان ہیں۔

    ٭۔  ہر پاکستانی پر فرض ہے کہ وہ 1947 کے پیغام کو آگے سے آگے ہر اس مردوعورت تک پہنچائے جواسکی رعیت میں ہے۔ 

    ٭۔اپنے گھر اپنے محلے گلی میں اس پیغام کو ہر کسی تک پہنچائیں۔میری بہنیں ، بیٹیاں جو گھریلو خواتین ہیں چاہے جاب کرنے والی ہیں وہ ایک دوسرے کو اپنے بچوں کو 1947 کا پیغام پہنچائیں اور سمجھائیں اور زیادہ سے زیادہ بہنیں بیٹیاں  خود بھی1947 کی ممبر بنیں۔ اور اپنی دوستوں،رشتہ داروں ہر کسی کو جو ان سے وابستہ ہے اسے عظیم مقصد کا ممبر بنائیں۔

    ٭ہماری بہنوں بیٹیوں اور ماؤں کا کردار قیامِ پاکستان میں بھی بے مثال تھا اور انشااللہ مجھے یقین ہو کی میری بہنیں بیٹیاں اب پھر وہی کردار ادا کریں گی۔اور پوری دنیا دیکھے گی کہ ہماری بہنیں بیٹیاں جرات بہادری میں اپنی مثال آپ ہیں۔اس قوم کی ہر بیٹی فاطمہ صغری ہے۔ فاطمہ صغری ہماری آپکی وہ بہادر بیٹی تھی جس نے 1947 میں صرف 14 سال کی عمر میں برطانوی  دفتری عمارت لاہور کی چھت پر بنا کسی سیڑھی کے چڑھ کربرطانوی پرچم اتار کر پاکستان کا پرچم لہراا دیا تھا ۔اور ساری دنیا  اس بہادری جرات پر حیران رہ گئی تھی۔ 

    ٭۔ ہر کسی کو سمجھائیں کہ پاکستان ہمارا گھر ہے۔ہم نے ہمارے بچوں نے یہاں رہنا ہے۔ اور اس میں لگی آگ ہم نے ہی بجھانی ہے اور انشااللہ ہم کامیاب ہوں گے جیسے ہمارے بزرگ ہمارا وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

    ٭۔اساتذہ کرام اپنے طالبِعلموں کے ذہنوں میں نقش کریں  کہ پاکستان ہمارا گھر ہے ۔ اسے ذلت و رسوائی سے اور مسائل کی دلدل سے ہم نے مل کر  نکالنا ہے اور ہمیں ہی اسکی حفاظت کرنی ہے ۔

    ٭۔ ہر پاکستانی کو 1947 کا ممبربنائیں۔

    ٭۔جتنے  جلد ممبر بڑھیں گے اتنی ہی منزل قریب ہوتی جائے گی انشاااللہ۔ اسلئے زیادہ سے زیادہ ممبرز بنیں ۔

    ٭۔ہمارےمعزز اینکرز صحافی اور میڈیا پرسنزپر مجھے یقین ہے کہ وہ اپنا کلیدی  رول ادا کریں گے تا کہ 1947 کا پیغام  اور اسکی مکمل آگاہی ہر پاکستانی تک پہنچے اور ہرپاکستانی راہِ حق کی اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرئے۔

    اس ملک نے آپکو سب کچھ دیا دولت ،عزت،شہرت۔ اب یہ ملک بھی آپکی طرف دیکھ رہا ہے کہ آپ اس ملک کے لئے کیا کرتے ہیں۔بلا شبہ آپ اس دھرتی کے با غیرت بیٹے بیٹیاں ہیں۔اور اس دھرتی ماں کا فخر ہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ انشااللہ آپ اس جدوجہد میں بے مثال رول ادا کریں گے۔اور معاشرے میں قائد و اقبال کا پیغام عام کرتے ہوئے ایک حقیقی فلاحی ریاست کے قیام میں ہمارا بھرپور ساتھ دیں گے۔بے شک یہ ہم سب پر دھرتی ماں کا قرض بھی ہے اور فرض بھی۔

    ٭۔انشااللہ جب ہمارے ممبر ایک خاص نمبر تک چلے جائیں گے تو ہم بنا کسی لڑائی جھگڑے کے امورِمملکت سنبھال لیں گے۔

    ٭۔آپ میں سے جو بھی پاکستانی جو کسی بھی شعبے میں اپنے اس گھر پاکستان کی بہتری کےلئے منصوبہ رکھتے ہوں وہ ضرور آگے آئیں۔ہم سے رابطہ کریں۔ہمارا ساتھ دیں۔

    ٭ہم کسی بھی قسم کے انتشار کے حق میں نہیں ہیں۔ ہر کام پر امن طور پر کرنے کے حق میں ہیں۔ ہمارے باباؒ اور ہمارے بزرگوں نے پرامن جدوجہد کے ذریعے پاکستان حاصل کیا تھا اور ہم جو قائدواقبالؒ کے قدموں کی خاک برابربھی نہیں ہیں  وہ اپنے بابائے قوم کے اصولوں پر ہی چلیں گے انشااللہ۔

    ٭ ہر کام بتدریج ہو گا جس کی تفصیلات کا ذکر اگلی پوسٹوں میں کیا گیا ہے۔

    ٭انشااللہ کسی قسم کا قانونی و آئینی خلا پیدا کئے بغیر بتدریج معاملات کو بدلا جائےگا۔

    ٭ہر پاکستانی اپنے  ساتھ اپنے دوستوں فیملی رشتہ داروں  محلہ داروں ہر کسی کو 1947 کا ممبر بنائے۔بے شک یہ ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ اپنے گھر پاکستان کو ان حالات سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرے۔اور دن رات جدو جہد کرے تاکہ ہم اپنے گھر پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنا سکیں۔

    ٭انشااللہ کوئی جلسے نہیں احتجاجی مظاہرے نہیں بلکہ ایک پرامن کامیاب پر جدوجہد۔

    ٭کیونکہ پاکستان ہم سب کا گھر ہے اور انشااللہ ہم سب نے اب مل کر اسے قائدواقبال کا پاکستان بنانا ہے۔ اور اس راہِ حق میں ہر کسی کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اور مجھے الحمدوللہ یقین ہے کہ ہر پاکستانی مرد و عورت بوڑھے بچے جوان سب اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں گے اور بالکل ویسے ہی کریں گے جیسے ہمارے بزرگوں نے ادا کرکے پاکستان حاصل کیا ۔

    ٭ہم کوئی لیڈر نہیں ہم تو قائدواقبال کے قدموں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں ۔ ہم تو ان قدموں کے نشانوں پر چلنے والے ہیں جن پرہمارے قائدواقبالؒ کی رہنمائی میں ہمارے آباؤاجداد چلے۔اور اللہ پاک نے سرکارﷺ کے صدقے ہمیں اس عظیم نعمتِ بے مثل پاکستان سے نوازا۔

    ٭اب بھی انشااللہ ،اللہ پاک  سرکارﷺکے صدقے ہمیں اس عظیم مقصد میں ضرور کامیاب کریں گے۔

    ٭ہر پاکستانی باباؒ کے اصولوں کو اپنے دل و دماغ میں نقش کرکے پوری دیانتداری سے پر ان پر کاربند ہو جائےتو انشااللہ منزل دور نہیں۔

    ٭٭ایمان٭٭ اتحاد٭٭ تنظیم٭٭

    ٭۔حضرتِ اقبال فرماتے ہیں۔

    ہزار خوف ہولیکن زبان ہو دل کی رفیق

    یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

     

  • ٭نظامِ حکومت٭

     ٭۔ حکومت کا سربراہ ” امینِ پاکستان” ہوگا۔

    ٭۔حکومتی سطح پر بد عنوانی بد دیانتی کی سزاسرِعام موت ہو گی۔

    ٭۔ نائب امینِ پاکستان کا بھی تقرر کیا جائے گا۔

    ٭۔اسی طرح ہر محکمہ کے انچارج متعلقہ محکمہ کے امین ہوں گے۔

    ٭۔تمام غیر پیداواری اخراجات مکمل طور پرختم کر دئیے جایئں گے۔ یہ ایک اہم ترین مسئلہ ہے۔ غیر پیداواری اخراجات ہمارے بجٹ میں خسارے کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔

    ٭۔سرکاری پروٹوکول اور اسی طرح کے دیگر اللے تللے ختم کر دئےجائیں گے۔

    ٭۔امینِ پاکستان اور دیگرامینوں کو ایک پاکستانی کی اوسط تنخواہ کے برابر تنخواہ دی جائے گی۔

    ٭۔کسی بھی سرکاری عہدےدار کوپانچ مرلے کے گھر سے بڑا گھر نہیں دیا جائے گا۔ اور سرکاری گھر کی عدم دستیابی کی صورت میں ایک اوسط گھر کےکرائے کے برابر معاوضہ دیا جائے گا۔

    ٭۔کسی بھی سرکاری اہلکار کے گھریلو اخراجات سرکاری طور پر نہیں دئے جائیں گے۔

    ٭۔سرکاری پلاٹ یا سرکاری زمین کی سرکاری اہلکاروں کو دینے پر مکمل پابندی ہو گی۔

    ٭۔اس سلسلے میں جو بدعنوانیاں ہو چکی ہیں ان کا مکمل پوسٹ مارٹم ہو گا اور ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    ٭۔ حضرت قائدِ اعظم کے ارشادات کی روشنی میں وطنِ عزیز کا نظم و نسق ایک انتطامی اکائی کے تحت کیا جائے گا۔اور صوبائی لسانی گروہی مذ ہبی  عصبیت کا  مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

    ٭۔صوبوں کا تصور ختم کر دیا جائے گا۔

    ٭۔ پاکستان صرف پاکستان ہو گا۔ نا کہ پنجاب سندھ خیبر پختونخواہ بلوچستان گلگت کشمیر۔

    ٭۔اس سلسلے میں بہت سے نام نہاد سیاستدانوں اوردانشورں کو صوبائی خود مختاری کا بخار چڑھنے کا اندیشہ ہے۔انکے لئے انتہائی موثر دوا موجود ہے۔  انشااللہ جس سے یہ بخار فوری اتر جائے گا۔

    ٭۔جو باباؒ نے فرما دیا وہ پاکستان کا قانون اور پالیسی ہے اس پہ کوئی دوسری رائے ہونے کا سوال ہی نہیں۔

    ٭۔ تمام صوبائی حکومتی نظام بتدریج ختم کر دیا جائے گا۔ اور وہ ملازمین  کو بتدریج نئے سسٹم کے تحت ایڈجسٹ کیا جائے گا۔

    ٭۔ نئے سسٹم کے مکمل نفاذ تک موجودہ صوبائی اہلکاروں کو اسلام آباد سے ہدایات جاری ہوں گی۔

    ٭۔وطنِ عزیز کو موجودہ حالات سے نکالنے کے لئے فرمانِ قائد کے مطابق کام کام اور صرف کام کی حکمتِ عملی کے تحت قومی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر محنت کی جائے گی۔

    ٭۔ہنگامی، شارٹ ٹرم ، میڈیم ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبوں کے تحت وطنِ عزیز کو مو جودہ صورتِ حال سے نکال کرانشااللہ حقیقی پاکستان بنایا جائے گا۔

    ٭۔ زراعت پر ہنگامی بنیادوں پر سب سے زیادہ توجہ دی جائے گی۔

    ٭۔ بجلی کے حوالے سے ہنگامی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ انڈسٹری اور زراعت کو فوری ریلیف دیا جا سکے۔

    ٭۔ پندرہ سال تک کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہو گی۔

    ٭۔ اسکے بعد جو سیاسی ڈھانچہ نافذ کیا جائے گا اسکی بنیاد ” متناسب نمائندگی” ہو گی۔

    ٭۔متناسب نمائندگی اور پورے سیاسی نظام کی تفصیلات کا اعلان دوسری پوسٹ میں کیا جائے گا۔

    ٭۔ ہر شعبے کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا ۔اور نیٹ ورکنگ کے ذریعے اسکا کنٹرول امینِ محکمہ متعلقہ اور فائنل کنٹرول امینِ پاکستان کے پاس ہو گا۔ جہاں ہر محکمے کو کسی بھی وقت آن لائن چیک کیا جا سکے گا۔

    ٭۔تمام سرکاری اہلکاروں کی کارکردگی کوسی سی ٹی وی کیمروں سے بھی مانیٹر کیا جائے گا۔ جس کا فائنل کنٹرول امینِ پاکستان کے پاس بھی ہو گا۔

    ٭۔تمام سرکاری کاموں کا طریقہ کار ہر ممکن حد تک سادہ آسان اور کرپشن سے پاک بنایا جائے گا۔

    ٭۔”فائل کلچر” کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔

    ٭۔افسر شاہی کی جگہ “خدمت گارِقوم” کے کلچرکو سختی سے نافذ کیا جائے گا۔

    ٭۔ حکومتی “خدمتگارِقوم” میں گریڈ سسٹم ختم کر دیا جائے گا۔اسکی جگہ “پیمانہِ خدمت” کا سسٹم لایا جائے گا۔ جس کے تحت سرکاری اہلکاروں کی ترقی و تنزلی کو عوامی خدمت سے منسلک کیا جائے گا۔اس سسٹم کے تحت ہر اہلکار کے پاس آنے والے پاکستانی اس اہلکار کی کارکردگی کو وہاں موجود “پیمانہ خدمت” میں اپنے شناختی کارڈ نمبر اور مسئلہ نمبر کے ساتھ اس اہلکار کی رپورٹ درج کریں گے۔

    ٭۔ یہ ” پیمانہ خدمت” کی رپورٹ فوری طور پر سسٹم کے ذریعے مذکورہ اہلکار کے فرسٹ لائن رپورٹنگ اہلکاراور دیگر رپورٹنگ اہلکار کے ساتھ امینِ محکمہ سے ہوتی ہوئی امینِ پاکستان تک فوری پہنچ جائے گی۔

    ٭۔  کسی بھی سطح پررشوت ستانی بد عنوانی کی سزا سرِعام موت ہو گی۔

    ٭۔سرکاری سطح پر  بنگلوں اور گاڑیوں کی فراہمی ختم کر دی جائے گی۔اور سرکاری اہلکار پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرنے کے پابند ہو ں گے تاکہ انہیں عوامی مسائل کا ادراک ہو سکے۔

    ٭۔ پبلک ٹرانسپورٹ بشمول ریلوے کو جدید بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔ تاکہ پرائیویٹ گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائےاور ایندھن کی بچت کی جا سکے۔

    ٭۔”صاحب کلچر” کو ختم کر دیا جائے گا۔ کسی بھی سرکاری اہلکار کے دفتر کے باہر چپڑاسی نہیں تعینات ہو گا۔

    ٭۔کسی بھی سرکاری محکمے کے مقامی انچارج کا دفترپورے محکمہ کے شروع میں ہو گا تاکہ ہر پاکستانی کی اس تک بلا روک ٹوک رسائی ہو۔

    ٭۔ سرکاری اور حکو متی اہلکاروں کے لئے “حلف نامہ” جاری کیا جائے گا۔ جس کا مقصد رشوت ستانی اور بد عنوانی کا مکمل خاتمہ ہو گا۔

    ٭۔ سرکاری سطح پر ایئرکنڈیشنرز اور ہیٹرز کے استعمال کو ختم کر دیا جائے گا۔

    ٭۔ موجودہ وزیرِاعظم اور پریزیدنٹ ہاوس کو سرکاری مہمان خانوں میں بدل دیا جائے گا اور بیرونی سربراہان کے قیام کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

    ٭۔کچے کا مسئلہ مستقل طور پر حل کر دیا جائے گا۔اور وہاں رہنے والے پاکستانیوں کو با عزت زندگی گزارنے کا پورا موقعہ دیا جائے گا۔

    ٭۔انشااللہ ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت موجودہ قرضوں کی ادائیگی اور ان پر واجب الادا سود کا خاتمہ کیا جائے گا۔

    ٭۔ مسلم ممالک کے ساتھ اسلامی طریقہ تجارت کے تحت لین دین کیا جائے گا۔ یعنی ڈالر کی بجائے مال کے بدلے مال کا اصول اپنایا جائے گا۔

    ٭۔ہر پاکستانی کو یہ سہولت فراہم کی جائے گی کہ وہ کسی بھی ملکی مسئلہ کا کوئی بہتر حل پیش کر سکے گا۔کیونکہ ہم آپ ہیں آپ ہم ہیں ہم سب ایک ہیں ۔ہم پاکستان ہیں۔

    ٭۔خسارے میں چلنے والے ملکی اداروں کی بہتری کے لئے فوری ہنگامی عملی اقدامات کئے جائیں گے۔

    ٭۔ سرکاری اداروں میں نام نہاد یونین بازی اور ایسوسی ایشن بازی پر انتہائی سخت پابندی عا ئد کی جائے  گی۔اور اسکی کوشش کے مرتکب اہلکاروں کوسنگین سزا دی جائے گی۔

    ٭۔میڈیا سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی۔عشق ومحبت۔ فحش مواد کی نشرواشاعت پر مکمل پابندی ہو گی۔

    ٭۔ خواتین کے تقدس کو مکمل طور پر بحال کیا جائے گا۔ میڈیا پر کام کرنے والی خواتین کو اسلامی پاکستانی اقدار کے تحت باپردہ ہو کر کام کرنے کی مکمل آزادی ہو گی۔

    ٭۔ بیوہ اور یتیم بچوں کی کفالت حکومت کی ذمہ داری ہو گی۔اور ایسی طلاق یافتہ خواتین جن کا کوئی سہارا نہ ہو گا انکی کفالت بھی حکومت کی ذمہ داری ہو گی۔

    ٭۔سادات کی توقیرو تکریم کے لئے خصوصی مراعات دی جائیں گی۔

     ٭۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کو خصوصی مراعات دی جائیں گی تاکہ وہ وطنِ عزیز کو حقیقی پاکستان بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔

    ٭۔بیرونِ ملک سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔

    ٭۔ نئے نظام کے اطلاق تک موجودہ نظام سے حتی الوسع لوگوں کو ریلیف دلوایا جائے گا۔

    ٭۔تمام سرکاری اہلکاروں کے باہر سے چپڑاسی اور دوسرے لوگ جو کرپشن کا باعث بنتے ہیں ان کو ہٹا دیا جائے گا۔

    ٭۔ہر پاکستانی اپنے کسی مسئلے کے لئے بلاروک ٹوک کسی بھی سرکاری اہلکار سے مل سکے گا۔

    ٭۔کسی بھی قسم کے عدم تعاون یا ناروا سلوک کی صورت میں مذکورہ سرکاری اہلکار کوبذریعہ جلاد سبق پڑھا دیا جائے گا۔

    ٭۔انشااللہ سیدنا حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ تعا لی عنہ کے طرز حکومت سے مکمل رہنمائی لی جائے گی۔

     

  • ٭چار کتابیں اور دِگہ٭

    ایک سرائیکی یا پنجابی زبان کی ضرب المثل ہے جس کا مفہوم ہے کہ

    “اللہ پاک نے انسان کی ہدایت کے لئے چار کتابیں آسمان سے اتاری ہیں اور پانچواں دگہ(ڈنڈا) اتارا ہے۔ جو لوگ ان چار کتابوں سے سیدھے نہیں ہوتے تو  انہیں دِگہ یعنی ڈنڈا سیدھا کرتا ہے۔”

    ٭ہمارے معاشرے میں  لوگ  ایمانداری سے شریفانہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

    ٭حلال کمانا اور پرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

    ٭ ہر کسی کو ہدایت  کا پوراپورا موقع دیا جائے گا۔

    ٭  کچھ لوگ وہ ہیں جو ہدایت کی زبان نہیں سمجھنا چاہتے۔

    ٭انکی خواہش بھی پوری کی جائے گی اور انہیں وہی زبان سمجھائی جائے گی جو سمجھنا چاہتے ہیں۔یعنی دِگہ کی زبان۔

    ٭ڈنڈے کو اس طرح استعمال کیا جائے گا کہ  یہ زبان سمجھنے والوں کے دلوں میں کوئی حسرت نہیں رہے گی انشااللہ۔

    ٭ابتدائی طور پر پچاس ہزارکڑیل نوجوانوں پر مشتمل “جلاد فورس” قائم کی جائے گی۔ جو اعلی تربیت یافتہ ہو گی۔

    ٭ جلاد فورس کا کام فوری نوعیت کے جرائم میں موقع پر سرِعام سزا دینا ہو گا۔

    ٭ کچھ جرائم میں سرِ عام کوڑوں کی سزا کا اطلاق کیا جائے گا۔

    ٭ سرِعام پھانسی  اور سرِ عام کوڑوں کی سزاؤں پر عملدرآمد جلاد فورس کے ذریعے کروایا جائے گا۔

    ٭۔مزید تفصیلات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔